ماسکو /اسلام آباد(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی اور ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ناگزیر ہے۔ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کے خاتمے اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لیے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا چاہیے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے،ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں۔ جمعرات کو ماسکو میں ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ایک طرف دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے تو دوسری جانب اس نے مشترک خطرات اور مسائل سے مل کر لڑنے کی اہمیت کو بھی دو چند کردیا ہے۔ کٹھن حالات ومشکلات کے باوجود ہم نے ایس سی او میں نفع مند اشتراک عمل جاری رکھا ہے جو روسی فیڈریشن کی قیادت میں یک جہتی اور باہمی تعاون کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے اپنے قیام کے 20 سال مکمل کرنے کے موقع پر ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں تاکہ ایس سی او کی حقیقی صلاحیت کھل کر سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کورونا وائرس کی وبا سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے حوالے سے اپنے تجربات سے دنیا کو مستفید کرنے کے لیے تیار ہے جس کی بنا پر آج کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور اموات میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا آج تیزی سے طاقت کی کثیرالقطبی دنیا میں تقسیم ہورہی ہے۔ پرانی اور نئی طاقتوں کے ابھرنے سے دنیا میں مقابلے کی فضا پہلے ہی بین الاقوامی تعلقات کو نئی جہات سے ہمکنار کررہی ہے۔ توقع کے عین مطابق یہ عمل ہموار نہیں۔ عالمی قوتوں اور مشترک ترقی کی قوتیں ایک طرف اور یک طرفہ سوچ، تنہائی پسند اور اپنی ذات تک محدود قوتیں دوسری جانب ہیں جن میں باہمی کشاکش نے بے انتہا غیریقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ہماری پختہ سوچ ہے کہ غیریقینی اور سفاک مسابقت کے اس ماحول میں ٹکرائو کی جگہ تعاون کو عالمی سیاسیات کی رہنما قوت ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں ایس سی او جیسے کثیرالملکی فورمز مشعل راہ اور امیدکی کرن ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کا خاتمہ اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لیے لازمی تقاضا دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ایمانداری سے عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ خطوں کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لیے ہر قسم کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کی شدید مذمت اور پرزور مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے یک طرفہ اقدامات امن وآشتی اور تعاون کا خطے میں ماحول پیدا کرنے کے ہمارے مشترک مقصد کے بھی منافی ہیں جن کی ڈٹ کر مخالفت کی جائے۔ افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان خطے اور دنیا میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی ، چین اور کرغیزستان کے وزراء خارجہ سے الگ الاگ ملاقاتیںکیں،اس دوران خطے میں امن سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عالمی امن اور ترقی میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہونا چاہیے،شاہ محمود قریشی
القمر
