English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی: ٹوٹی سڑکیں، گڑھے‘ لاکھوں گاڑیاں خراب‘ پرزے مہنگے

کراچی: شہر قائد میں گزشتہ دنوں ہونے والی مون سون کی شدید اور موسلا دھار بارشوں اور اس کے نتیجے میں نکاسی کا نظام تباہ ہونے سے مختلف علاقوں میں کھڑی لاکھوں گاڑیاں خراب ہو گئیں۔ جس کے بعد شہری کورونا کے بعد ایک نئی اور بڑی ذہنی کوفت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

بارش میں خراب ہونے والی گاڑیاں ٹھیک کرانے کے لیے شہری بڑی تعدادمیں ورکشاپس کا رخ کررہے ہیں، جہاں کام میں غیر معمولی اضافے کے باعث منہ مانگے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔ خصوصاً آٹو میٹک اور جدید گاڑیوں کے کارڈز میں پانی بھرنے سے ان کی مرمت بھی مہنگی ہو گئی ہے جب کہ مکینکوں کی اجرت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی بے حسی اور لاپروائی کے نتیجے میں بارش کے بعد بھی کئی مشکلات اور مصیبتیں نئی شکل میں ان کے سامنے کھڑی ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں زیر آب گاڑیوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے جنہیں کئی روز پانی میں رہنے کے بعد نکالا گیا تو وہ مکمل طور پر ناکارہ ہوچکی تھیں اور ان گاڑیوں کے انجن کی مرمت کے ساتھ ساتھ سیٹیں اور انٹریریئر کی بھی مرمت کروانا پڑرہی ہے۔ گاڑیوں کا سامان فروخت کرنے والے بازاروں طارق روڈ، واٹر پمپ اور تبت پلازہ پر دن بھر گاڑیوں کی قطاریں نظر آرہی ہیں شہری گاڑیوں کے خراب شیشوں، لائٹس اور انٹریریئر کی مرمت کرانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

کار مالکان کا کہنا ہے کہ بارشوں میں کھڑے کھڑے اور پانی کی وجہ سے گاڑیوں میں ناگوار بو رچ بس گئی ہے جس کو ختم کرانے کے لیے کارپٹ نکال کر صفائی کرنا ضروری ہے ورنہ کارپٹ میں موجود پانی سے گاڑیوں کا فرش زنگ پکڑنے اور گلنے کا خدشہ رہتا ہے، بارشوں میں چلنے والی گاڑیوں میں مڈ شیلڈز بھی تبدیل کرائی جارہی ہیں۔ مختلف علاقوں میں پیٹرول پمپوں پر واقع سروس اسٹیشنوں پر بھی گاڑیوں کی قطاریں لگی دکھائی دے رہی ہیں اور گاڑیاں دھلوانے کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہتا ہے، ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں سروس اسٹیشنوں پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔

موٹرسائیکلوں کے وہیل بیئرنگ بارش کے پانی سے خراب ہوئے
بیشتر موٹرسائیکلوں کے وہیل بیئرنگ پانی کیوجہ سے خراب ہوچکے ہیں جن کی مرمت کرائی جارہی ہے اسی طرح گڑھوں میں موٹرسائیکلیں چلنے اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے اگلے پچھلے جمپ کا کام بھی بڑھ گیا ہے، اکثر شہری موٹرسائیکل کے رم اور تیلیاں تبدیل کرواتے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ انجن اور کاربوریٹرز میں پانی بھرنے سے بھی موٹرسائیکل چلانے والوں کو دشواری کا سامنا ہے۔

اسی دوران مکینکس کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے پرزہ جات مہنگے ہوگئے ہیں عام شہری کے لیے بائیک کی مرمت کے لیے نئے پرزہ جات کی خریداری مشکل ہوگئی ہے اس لیے زیادہ تر شہری مکینکوں سے کہتے ہیں کہ کسی بائیک سے نکلا ہوا پرانا پرزہ لگاکر کام چلائیں، مکینکوں کا کہنا ہے کہ گاہکوں کی پتلی حالت دیکھتے ہوئے گاہک جتنے پیسے دیتے ہیں وصول کرلیتے ہیں کیونکہ ہم خود مہنگائی کا شکا رہیں۔

علاوہ ازیں شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے گاڑیوں کی چولیں ہل گئی ہیں شاکس، بال جوائنٹس اور جمپس وغیرہ کی مرمت کا کام بھی تیز ہوگیا ہے شہر کے مختلف علاقوں میں مکینکس بارشوں سے خراب ہونے والی گاڑیوں کی مرمت میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے سڑک کنارے قائم ورکشاپوں اور فٹ پاتھوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے بعد سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں کی وجہ سے گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

شہر میں موٹرسائیکل کی مرمت کے علاقائی مراکز میں صبح سے ہی ورکشاپس اور فٹ پاتھوں پر عارضی دکانیں کھل جاتی ہیں جہاں مکینکس موٹرسائییکلوں کی مرمت کرتے نظر آتے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکلوں کی مرمت پر عام دنوں میں ماہانہ 300سے 400 روپے خرچ ہوتے ہیں اور انجن آئل اس کے علاوہ ہوتا ہے لیکن بارشوں کے بعد سڑکوں کی صورتحال کیو جہ سے موٹرسائیکلوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی بڑھ گئی ہے اور مرمت پر اٹھنے والے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے