وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ رشکئی اقتصادی زون معاہدہ خیبرپختونخواکی ترقی کیلیے اہم سنگ میل ہے۔
رشکئی خصوصی اقتصادی زون کی ترقی کے لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے کہ وہ چائنیز بولتے ہیں اور ہم اردو، لیکن انگریزی میں ہم سے تقریب کر رہے ہیں لہٰذا میری درخواست ہے کہ ہم بھی اردو میں بات کریں، ہمیں انگریزی بولنے کی کیا ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک منصوبے اب صرف مواصلات تک محدود نہیں رہے، رشکئی خصوصی اقتصادی زون معاہدہ خیبرپختونخواکی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ہے، رشکئی اقتصادی زون سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق سب سے زیادہ ترقی اورغربت کا خاتمہ خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے لیکن روزگار کے مواقع نہ ہونے سے لوگ باہر ممالک جاتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے، ہماری کوششوں سے اگر افغانستان میں امن آ جاتا ہے تو رشکئی انڈسٹریل زون کے ذریعے یہ پورا علاقہ وسط ایشیا سے منسلک ہو جائے گا اور تجارت کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائے گئے ترسیلات زر کے حوالے سے کہا ہے کہ رواں برس اگست کے مہینے میں بیرون ملک سے 2095 ملین امریکی ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھجوائے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 24.4 فیصد زیادہ ہے۔
Overseas Pakistanis sent $2,095 million in remittances in Aug 2020 — 24.4% higher than Aug. last year — in addition to the record $2,768 million in July 2020. For the first two months of this fiscal year our remittances are up 31% over the same period last year. Alhamdulillah
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) September 14, 2020
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ رواں برس جولائی میں یہ ترسیلات 2768ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچی، رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ کے دوران یہ ترسیلات گزشتہ برس کے اسی دورانیے کی نسبت31 فیصد زیادہ رہیں۔
