English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دشمنی انتہاپر ،مذاکرات مناسب نہیں،آرمینیا کی ہٹ دھرمی قائم

القمر

یریوان (انٹرنیشنل ڈیسک) جنگی جنون میں مبتلا آرمینی حکومت نے آذربائیجان کے ساتھ جاری جھڑپوں کو بند کرنے کے لیے عالمی برادری کی اپیلیںمسترد کردیں۔ ادھر آذربائیجان کے صدر الہام الیو نے اعلان کیا ہے کہ متنازع علاقے کاراباخ سے آرمینی فوج کے مکمل انخلاتک آذری فوج چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یریوان حکومت نے فوجی انخلا کے مطالبے کو تسلیم کر لیا تو خون ریزی ختم ہو جائے گی اور خطے میں امن قائم ہوجائے گا۔ مذاکرات کی اپیل کے جواب میں آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشنیان کا کہنا تھا کہ باکو حکومت کے ساتھ دشمنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ان حالات میں مذاکرات کی بات کرنا ممکن نہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں آرمینیا کے 104 فوجی اور 23 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب آذری وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ کاراباخ میں 2300 جنگجو ہلاک 130 ٹینک، 200 آرٹلری یونٹس، 25اینٹی ائرکرافٹ یونٹ، اسلحہ کے 5ڈیپو، 50اینٹی ٹینک یونٹ اور 55فوجی گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ جواب میں آرمینی فوج نے اُن کے 29ٹینک اور فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ سابق سویت یونین کے رکن ممالک کے درمیان تنازع کے تناظر میں تُرکی اور روس کی جانب سے مداخلت جاری ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے تنازع کے فوری حل کے لیے ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو دونوں پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کرانے کے لیے تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے