خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے اسلامی مرکزنے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو حرام قرار دے دیا۔ فقہ اسلامی آڈیٹوریم کی طرف سے فتویٰ جاری کیا گیا،جس پر سوڈان کے تمام علما ئے کرام نے اتفاق کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق خرطوم حکومت کی جانب سے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی اطلاعات پر عوام میں شدید اضطراب ہے اور اب اسلامی مرکز نے علانیہ طور پر مخالفت کردی ہے۔ قبل ازیں ڈان کے عبوری وزیر خارجہ عمر قمرالدین نے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرکے تعلقات استوار کرلیے تو خرطوم پرعائد بین الاقوامی پابندیاں ختم اور سوڈان کا نام دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔دوسری جانب فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے اسرائیلی منصوبوں نے واضح کر دیا ہے کہ عرب ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے آباد کاری روکنے کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات نے صہیونی ریاست سے دوستی کرنے والے عرب ممالک کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل7نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید 5ہزارگھروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ نیتن یاہو کے اعلان پر حماس کے ترجمان نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کا اعلان کرنے والے عرب ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جو دعوے کررہے تھے کہ اسرائیل سے تعلقات کے نتیجے میں یہودی آباد کاری کا عمل روک دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عرب ممالک یہودی آبادکاری روکنے کے حوالے سے دنیا اور فلسطینی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ ان کی دشمنی اور جھوٹ کھل کر دنیا کے سامنے آگئے ہیں۔ وہ صرف امریکا کے دبائو کے تحت فلسطینی قوم کے حقوق کے سودے بازی کے جرم میں شریک ہو رہے ہیں۔
سوڈانی اسلامی مرکز نے اسرائیل سے تعلقات حرام قرا دے دیئے
القمر
