English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حاضر سروس امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رحجان بڑھ گیا

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی فوج میں حاضر سروس اہل کاروں میں خودکشی کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگ گیا۔ خبررساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق 2019ء کے مقابلے میں رواں برس امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں 30فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ اعلیٰ حکام فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ میجر جنرل کرسٹوفر ڈوناہیو کہنا ہے کہ وہ خودکشیوں کے محرکات جاننے سے قاصر ہیں۔ تاہم اس سے قبل جولائی میں فوجی حکام نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فوجیوں کی بیرونی ملک تعیناتی، تنہائی اور کورونا وائرس سے ہلاکت کا خوف خودکشیوں کا اہم سبب ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے اور اگر حاضر سروس فوجیوں کی خودکشی کی بات کی جائے تو یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 30فیصد زائد بنتی ہے ۔ خودکشی کی دیگر وجوہ میں فوجیوں کو شورش زدہ علاقوں میں بھیجا جانا، قدرتی آفات میں امداد کے لیے طلب کرنا اور بدامنی کے دوران شہریوں پر تشدد کرنا بھی شامل ہے۔ ان حالات کے تناظرمیں اب فوجیوں کی جنگ زدہ علاقوں میں تعیناتی کی مدت کم کرنے کے ساتھ ان کی صحت کا مزید خیال رکھنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے ۔ اسی طرح ذہنی دباؤ کے شکار فوجیوں کا پتا لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جائے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حکام نے رواں برس کے دوران خودکشیوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی ، لیکن مارچ کے بعد سے صرف ائر فورس میں 100سے زائد اہل کاروں نے خودکشی کی۔ 2018ء میں 541فوجیوں نے اپنی جان خود لی تھی۔خودکشی کا حالیہ واقعہ بیالیسویں ائربورن ڈویژن میں آیا ہے،جب 27سالہ سارجنٹ جیسن لوو نے اپنی جان لے لی۔ اس نے آرمی ایڈوانس لیڈر کورس میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔ فوج میں گریجویشن کے 5دن بعد اس نے کسی بھی کال یا ٹیکسٹ میسج کا جواب دینا چھوڑ دیاتھا،جس پر اس کے ساتھی نارتھ کیرولینا میں اس کے فلیٹ میں گئے تو وہ مردہ حالت میں ملا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے