English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عراق امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملے شیعہ ملیشیا پر الزام

القمر

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں حکومت کی جانب سے جنگجو ؤں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے باوجود راکٹ حملوںکا سلسلہ نہ رک سکا۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق عراقی کردستان میں ایک بار پھر امریکی فوجی اڈے پر راکٹ داغے گئے، تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عراقی کردستان کی انسداد دہشت گردی سروس نے اپنے بیان میں بتایا کہ نینویٰ صوبے کے شیخ امیرنامی سرحدی گاؤں سے پاپولر موبیلائزیشن فورس (پی ایم ایم) نے 6راکٹ داغے۔ حملے میں نیم خود مختار علاقے کردستان میں اربیل ائرپورٹ کے قریب امریکی فوجی اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا،تاہم تمام راکٹ فضا ہی میں تباہ کردیے گئے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل ہی عراقی وزیر اعظم مصطفی کاظمی نے اپنے بیان میں ملک بھر میں جنگجوؤں کے خاتمے اور غیر ملکیوں کے تحفظ کا عزم کیا تھا۔ حکام نے حملوں کا الزام پی ایم ایف نامی مشترکہ گروہ پر عائد کیا ہے، جس میں بیشتر ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا شامل ہیں۔ واضح اربیل ہوائی اڈے کے اندر امریکی قیادت میں اتحادی فورسز موجود ہیں۔ حملوں میں امریکی تنصیبا ت کو نشانہ بنانے پر واشنگٹن کی جانب سے دھمکی بھی دی جاچکی ہے کہ اگر بغداد حکومت نے شیعہ ملیشیا ؤں کو قابو میں نہیں کیا اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کی تو وہ اپنا سفارت خانہ بند کردے گا۔ عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں کے بعد موصل اور اربیل کے درمیان راستے کو بند کر دیا گیا اور امریکی لڑاکا طیاروں نے اپنے گشت کو بڑھادیا۔ ادھر داغے جانے والے راکٹ کیٹوشیا سے زیادہ جدید ہیں۔ ادھر کردستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
بغداد: عراق میں اتحادی فوج کے اڈے پر حملے کے بعد وسیع علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں ہے‘ اہل کار راکٹ گرنے سے پڑنے والا گڑھا دکھا رہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے