ممبئی: بھارتی لیجنڈ اداکار دلیپ کمار نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں واقع اپنے آبائی گھر کی یادیں شیئر کی ہیں۔
حال ہی میں خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور میں واقع بھارتی لیجنڈ اداکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کی دوبارہ تزئین و آرائش کرکے انہیں میوزیم قرار دینے کا فیصلہ کیاہے۔ اس خبر کو سن کر بھارت میں موجود دلیپ کمار اور ان کی اہلیہ بہت خوش ہیں۔
دلیپ کمار نے چند روز قبل پشاور کے شہریوں سے ان کے آبائی گھر کی تصاویر شیئر کرنے کی بھی درخواست کی تھی اور اب ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹس سے چند ٹوئٹس کی گئی ہیں جن میں انہوں نے پشاور والے گھر میں گزارے گئے وقت اور اپنے بچپن کی حسین یادیں لوگوں کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دلیپ کمارکی پشاورکے شہریوں سے درخواست
دلیپ کمار نے لکھا ہمارے پشاور والے گھر میں میری والدہ ہمیشہ بڑے سے کچن میں مصروف رہتی تھیں اس وقت میں بہت چھوٹا تھا اور انتظار کرتا تھا کہ کب میری والدہ کچن کے کام ختم کریں تاکہ میں ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کا خوبصورت چہرہ دیکھ سکوں۔
2/n My mother who was frail and delicate was always in the spacious kitchen of the house and as a little boy I would wait for her to finish her chores so that I could just sit by her side and gaze at her beautiful face.
— Dilip Kumar (@TheDilipKumar) October 1, 2020
مجھے اس گھر کا وہ کمرہ یاد ہے جہاں تمام گھر والے شام کی چائے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ وہ ایک کشادہ کمرہ تھا اور اسی کمرے میں خواتین عبادت کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ مجھے اس گھر کا ٹیرس، کمرے اور ہر چیزیاد ہے۔
3/n I have memories of the sitting room where the family gathered for high tea in the evenings, the large room where the ladies prayed, the terrace, the bedrooms, everything.
— Dilip Kumar (@TheDilipKumar) October 1, 2020
مجھے واضح طور پر یاد ہے اپنے دادا کی پیٹھ پر بیٹھ کر سواری کرنا اور وہ خوفناک کہانیاں جو دادی مجھے سناتی تھیں تاکہ میں اکیلے باہر نہ جاؤں۔
4/n I can vividly recall the piggy rides on my grandfather’s back and the scary stories my grandmother cooked up to forbid me from wandering out of the house alone.
— Dilip Kumar (@TheDilipKumar) October 1, 2020
میرے پاس قصہ خوانی بازار کے گھر کی خوبصورت یادیں ہیں جہاں مجھے اپنی زندگی کا پہلا سبق ملا جس نے بعد میں مجھے اسکرپٹ منتخب کرنے میں رہنمائی کی۔ ہر روز جب قصہ خوانی بازار میں تجارت بند ہوتی تھی تو ایک کہانی سنانے والا بہادری، فتح، فریب اور انتقام کی داستانیں بیان کرتا تھا جنہیں میں اپنے والد اور انکل کے ساتھ بیٹھ کر بڑی توجہ سے سنتا تھا۔
6/6 Every day as the trading closed in the market of Qissa Khwani Bazaar, a story teller would sit in the centre of the square narrating stories of valour and victory, deceit and retribution which I would listen to with wide- eyed attention, seated next to my father and uncles.
— Dilip Kumar (@TheDilipKumar) October 1, 2020
اس کے علاوہ دلیپ کمار نے گزشتہ روز اردو میں ٹوئٹ کرکے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی خواہش پر ان کے آبائی گھر کی تصویریں شیئر کی تھیں۔
Thank you everybody for sharing the lovely house pictures upon request
گزارش پر آپکی ترسیل کردہ تصاویر کے لیے
بہت شکریا۔ https://t.co/9iF0ZFoRjJ— Dilip Kumar (@TheDilipKumar) October 1, 2020
واضح رہے کہ دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب محلہ خداداد میں واقع اسی گھر میں پیدا ہوئے، اس گھر کوگودام کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے اسے اپنی تحویل میں لے لیاہے جس کی تزئین و آرائش جاری ہے۔ دلیپ کمار نے آخری بار 1988 میں اپنے آبائی گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گھر میں دلیپ کمار نے اپنا بچپن گزارا ہے۔
