English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نوازشریف اور40 لیگی رہنمائوں پر غداری کا مقدمہ

القمر

لاہور‘اسلام آباد(نمائندہ جسارت+صباح نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف سمیت40 (ن)لیگی رہنمائوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج کیا گیا ہے‘اسلام آبادہائیکورٹ نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست مسترد کردی جب کہ لاہورہائیکورٹ نے رہنما(ن)لیگ کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف بغاوت کے مقدمے میں10 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور پولیس کو گرفتاری سے روک دیا۔تفصیلات کے مطابق نواز شریف کے خلاف مجرمانہ سازش،بغاوت اور لوگوں کو اکسانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے،ایف آئی آر میں مریم نواز سمیت دیگر لیگی قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں ایک شہری’’بدر رشید‘‘کی مدعیت میں نواز شریف اور دیگر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی، 121، 121 اے،123 اے، 124 اے، 153 اے اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 ء کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مجرم نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں اور ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جان بچانے اور علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی اور حکومت وقت نے مخالفت نہیں کی۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق تاہم اب سزا یافتہ نواز شریف علاج کرانے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی مجرمانہ سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت اور اشتعال انگریز تقاریر کر رہے ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق مجرم نواز شریف نے اپنے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر2020ء کے خطابات دشمن ملک بھارت کی بیان کردہ پالیسی کی تائید میں کیے تاکہ پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف )کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے۔ درج مقدمے کے متن میں موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا اور پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دینا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کے آل پارٹیز کانفرنس، مسلم لیگ کی سینٹرل ورکرز کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطابات میں شریک رہنمائوں راجا ظفر الحق، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، جنرل (ر)عبدالقیوم، سلیم ضیا، اقبال ظفر جھگڑا، صلاح الدین ترمذی، مریم نواز شریف، احسن اقبال، شیخ آفتاب احمد، پرویز رشید، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، بیگم نجمہ حمید، بیگم ذکیہ شاہ نواز، طارق رزاق چودھری نے تقاریر کی تائید کی ۔ سردار یعقوب نثار، نوابزدہ چنگیز مری، مفتاح اسماعیل ، محمد زبیر، عبدالقادر بلوچ، فاطمہ خواجہ، مرتضیٰ جاوید عباسی، مہتاب عباسی، جاوید لطیف، مریم اورنگزیب، عطا للہ تارڑ، چودھری برجیس طاہر، چودھری محمد جعفر اقبال، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز ملک، سائرہ افضل تارڑ، بیگم عشرت اشرف، وحید عالم، راحیلہ درانی، دانیال عزیز سمیت وڈیو لنک پر شریک رہنمائوں وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام، عرفان صدیقی و دیگر نے نواز شریف کی تقاریر کو سن کر اس کی تائید کی ۔ مختلف دفعات کے تحت درج مقدمے کے مطابق نواز شریف نیب قوانین کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم ہے اور نواز شریف کا مقصد میڈیا پر براہ راست پاکستان کے مقتدر اداروں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا اور عوام خاص کراپنے پارٹی ارکان کو اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے جبکہ وہ لندن سے بیٹھ کر میڈیا کے ذریعے عوام کو کھلے عام بغاوت کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ عوام ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کریں تاکہ ملک میں آگ و خون کا کھیل کھیلا جاسکے ۔ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کی اس طرح کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کا کشمیر پر قبضے کی کارروائیوں اور مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے، مزید یہ کہ اس سے بالواسطہ طور پر پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے اپنے دوست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو فائدہ پہنچایا جاسکے اور عالمی برادری میں پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کو بدنام کیا جاسکے۔نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان اور ریاستی اداروں کو بدنام کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے قوانین کیس سزا یافتہ مجرم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے میڈیا کے ذریعے عوام کو حکومت اور فوج کے خلاف بغاوت پر اکسائے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مریم نواز شریف و دیگر مندرجہ بالا مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں کا نواز شریف کی تقاریر کی تائید کرنا قانون کی گرفت میں آتا ہے لہٰذا نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں کے خلاف تعزیرات پاکستان اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا)کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔علاوہ ازیںاسلام آباد ہائی کورٹ نے نوا ز شریف کی تقاریرپرپابندی کی درخواست مسترد کردی ۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزارکی جانب سے مؤقف اختیارکیا گیا کہ نوا ز شریف نے اپنی 20 ستمبرکی تقریر میں ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزارکے وکیل سے استفسارکیا کہ اس سے درخواست گزارکا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، سیکورٹی ادارے موجود ہیں اس ملک میں ایک پارلیمنٹ بھی موجود ہے، عدالت کو سیاسی نوعیت کے معاملات میں کیوں ملوث کرنا چاہتے ہیں؟ کیا پیمرا کا کوئی قانون موجود ہے؟ جب پیمرا نے نوٹس بھیج رکھا ہے تو آپ یہاں کیوں آگئے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قراردیا کہ نواز شریف کی تقاریرپرپابندی عوامی اہمیت کا مقدمہ نہیں،نوازشریف کی تقاریر پر پابندی کے لیے ہائیکورٹ کی مداخلت درست نہیں، جب قانون میں متبادل طریقہ کار موجود ہو تو عدالت براہ راست مداخلت نہیں کرسکتی۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن(ر) محمد صفدر کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں 10 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور پولیس کو گرفتاری سے روک دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے