دبئی (انٹرنیشنل ڈیسک) عرب ممالک کے نوجوانوں میں آبائی وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جانے کا رجحان بڑھنے لگ گیا۔ دبئی کمیونی کیشن ایجنسی اسداز بورسن کوہن اینڈ ولف کی سروے رپورٹ سے پتا چلا کہ 18 سے 24 سال کی عمرکے ہر 10 میں سے 4 عرب نوجوان آبائی وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک میں آباد ہونے کے خواہش مند ہیں۔ 17 عرب ممالک میں کرائے گئے سروے میں 4ہزار نوجوانوں کے انٹرویوکیے گئے۔ سروے کے نتائج کے مطابق شمال افریقی عرب ممالک کے 47 فی صد نوجوان ملک چھوڑنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ، جب کہ مشرقی بحیرۂ روم کے عرب خطے کے 63 فی صد نوجوان اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔ یہ سروے 2مراحل میں کرایا گیا ۔ پہلے مرحلے میں جنوری اور مارچ کے دوران 3ہزار400 عرب نوجوانوں کے انٹرویو کیے گئے۔ دوسرا مرحلہ اگست میں ہوا ، جس میں 600 نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔ نقل مکانی کا سب سے رجحان مشرقی بحیرۂ روم کے قریب واقع عرب ممالک کے نوجوانوں میں پایا گیا۔ اس خطے میں مصر، شام، عراق، فلسطین، اردن اور لبنان شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہیں امن ، روزگار، تشدد اور عدم استحکام سمیت کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسے عرب ممالک ہیں جہاں کے نوجوانوں کو کسی دوسرے ملک میں نقل مکانی کرنے میں دلچسپی نہیں ہے۔
عرب ممالک کے اکثر نوجوان ترکِ وطن کے خواہاں
القمر
