واشنگٹن/کابل/برسلز/راولپنڈی (آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رواں برس کرسمس تک افغانستان سے اپنے تمام فوجی نکال لیں گے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہاکہ افغانستان میں فرائض پر مامور ہمارے دلیر جوانوں کا اپنے گھروں میں ہونا ضروری ہے، ہمیں افغانستان میں تھوڑی تعداد میں خدمات انجام دینے والے اپنے بہادر مرد اور خواتین کو کرسمس تک واپس اپنے گھر بلا لینا چاہیے۔ادھر طالبان نے امریکی صدرکے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا امریکا، طالبان امن معاہدے کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہو گا۔ طالبان کی حکومت امریکا سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے گی۔دوسری جانب ناٹو چیف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک ساتھ افغانستان گئے تھے ایک ساتھ ہی نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام ناٹو ممبران کو باہمی مشاورت سے فیصلے کرنے چاہئیں۔علاوہ ازیں فغان صدر اشرف غنی نے کہاہے کہ کوئی بھی طاقت طالبان کو نہیں مٹاسکتی۔ دوحا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم 20 سالہ جنگ 20 دن میں ختم نہیں کرسکتے ،افغانستان کے دیرینہ تنازع کوبندوق کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا ہے۔ ادھر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زادنے کہا کہ افغانحکومت پاکستان کے ساتھ سائیڈ ڈیل کرسکتی ہے، جس کی طالبان کے لیے تاریخی حمایت نے طویل عرصے تک تعلقات کو امتحان میں ڈالے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سفارتکاری میں ’مددگار‘ رہے۔ مزید برآں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل آسٹن ملر نے ملاقات کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے بات چیت کی گئی پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق بھی ملاقات میں شریک تھے۔ ملاقات میں پاک افغان سرحدی انتظامات اور افغان امن عمل میں حالیہ پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔
کرسمس سے قبل افغانستان سے اپنے فوجی نکال لیں گے‘ ٹرمپ
القمر
