باکو/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+نمائندہ جسارت) آذر بائیجان نے مقبوضہ علاقہ آزاد کرانے تک جنگ بندی سے انکار کردیا۔پاکستان میں تعینات آذربائیجان کے سفیر علی علیزادے نے کہا ہے کہ آرمینیائی افواج فوری اور غیر مشروط طور پر ہمارے علاقوں سے نکل جائیں۔اسلام آباد میں آذربائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز اور ملٹری اتاشی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آرمینیا کو فوری طور پر آذربائیجان کے علاقے خالی کردینا چاہیں، ہمارا مطالبہ فوری اور غیر مشروط انصاف ہے۔ علی علیزادے نے کہاکہ آذربائیجان کی جانب سے کبھی بھی آرمینیا کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ہماری افواج صرف عسکری تنصیبات کو ہی نشانہ بناتی ہیں۔اس موقع پر ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز کا کہنا تھا کہ آرمینیا گمراہ کن خبریں پھیلا رہا ہے کیونکہ میدان جنگ میں اس نے اپنی شکست دیکھ لی ہے، ہم نے آرمینیا کے کسی علاقے کو نشانہ نہیں بنایا، صرف اپنے مقبوضہ علاقوں سے قبضہ چھڑوانے کے لیے کارروائی کی ۔آذربائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز سمیر گلئیوف کا کہنا تھا کہ آرمینیا نے بیرون ملک سے آئے دہشت گردوں کو مسلح کر کے محاذ پر بھیجنا شروع کر دیا ہے جب کہ آذربائیجان صرف اپنی سالمیت کا دفاع کررہا ہے۔دوسرجانب آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جنگ روکنے کے لیے فرانس، امریکا اور روس نے سر جوڑ لیے، تینوں ممالک کے نمائندے جنیوا اور ماسکو میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔ تینوں ممالک منسک گروپ کا حصہ ہیں جو کاراباخ میں پہلے بھی جنگ بندی کراچکا ہے۔ ترکی نے منسک گروپ پر لڑائی کی وجوات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا یا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی آرمینیا کے 30 جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ تعداد 350 تک پہنچ گئی، آرمینیا کے صدر نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو برطرف کردیا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آندھرا اور اڈیشہ میں ’ارنب‘ سے ہونے والی تباہی پر کانگریس کا اظہار افسوس، مودی حکومت سے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
- دلارچند یادو قتل واقعہ میں اننت سنگھ کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ نے خودسپردگی کا دیا حکم
- چھتیس گڑھ کے اسکول میں طلبا کے درمیان آسارام کی کتابیں ہوئیں تقسیم، شکایت کے بعد پرنسپل ہٹائے گئے
- چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا ’عوامی مواخذہ‘ پروگرام ایک دن کے لیے ملتوی!
- اتر پردیش میں ’فارم-7‘ کے ذریعہ ووٹرز کا نام حذف کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دستاویزات پیش کرنے کا حکم