نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک میں ہر سولہویں منٹ میں ایک خاتون یا لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جب کہ کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے حکم پر جاری کیے گئے 2019ء کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک سال میں بھارت میں خواتین پر تشدد اور زیادتی کے واقعات میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2019ء میں بھی دارالحکومت نئی دہلی میں خواتین پر تشدد اور زیادتی کے سب سے زیادہ 12 ہزار 902 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جب کہ ممبئی 6519 رجسٹرڈ کیسوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اگرچہ زیادتی کے کیسوں میں نئی دہلی سب سے آگے ہے، تاہم خواتین کے خلاف تشدد، استیصال اور بعض جرائم کے کچھ واقعات میں ممبئی سرفہرست ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019ء میں نئی دہلی میں 1213، ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں 517 اور ممبئی میں 394 زیادتی واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔ اسی حوالے سے انڈیا ڈاٹ کام نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارت کے 19 میٹروپولیٹن شہروں میں سب سے کم زیادتی کے واقعات ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں ریکارڈ ہوئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2019 میں کولکتہ میں صرف 14 زیادتی کے واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔ انڈیا ڈاٹ کے مطابق رپورٹ سے عندیہ ملتا ہے کہ کولکتہ دیگر شہروں کے مقابلے میں خواتین کے لیے قدرے محفوظ ہے، تاہم رپورٹ کے اعداد و شمار اصل حقیقت سے کہیں کم ہیں، کیوں کہ کئی واقعات رجسٹرڈ ہی نہیں کرائے جاتے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین میں عمر رسیدہ، ادھیڑ عمر، نابالغ لڑکیاں اور انتہائی کم سن بچیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ بھارت میں نہ صرف زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ خواتین کے خلاف دیگر طرح کے تشدد اور استیصال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ خواتین سے زیادتی، تشدد اور استیصال کے حوالے سے سب سے خطرناک ریاست اتر پردیش قرار دی گئی، جہاں 2019ء میں 59 ہزار 853 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 5997 کیس زیادتی کے تھے۔ دوسرے نمبر پر خطرناک ترین ریاست راجستھان قرار دی گئی، جہاں 2019ء میں 14 ہزار 550 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3065 کیس زیادتی کے تھے۔ خواتین کے حوالے سے تیسری خطرناک ریاست مہاراشٹر قرار دی گئی، جہاں 2019ء میں 37 ہزار 144 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے زیادتی کے ایک ہزار سے کم کیس تھے۔
