English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آرمینی فوج کی ترک تیل پائپ لائن پر گولہ باری

القمر

 

باکو (انٹرنیشنل ڈیسک) آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 12 روز سے جاری لڑائی کے دوران ترکی کی تیل پائپ لائن کو بھی نشانہ بنا دیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق آرمینی فوج نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے بحیرۂ روم کے ساحل پر ترکی کے بندرگاہی شہر جیحان تیل پہنچانے والی اس ’’بی ٹی سی‘‘ پائپ لائن کو راکٹوں سے نشانہ بنایا، تاہم وہ نقصان سے محفوظ رہی۔ البتہ اس حملے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا۔ دوسری جانب آرمینی حکومت نے آذربائیجان سے جنگ کے دوران ہی اپنے محکمہ قومی سلامتی کے سربراہ کو برطرف کر دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق آرمینی قومی سلامتی سروس کے سربراہ ارگشتی کیارامن کو عہدے سے ہٹانے کی وجہ متنازع علاقے نگورنو کاراباخ میں جاری حالیہ فوجی تصادم ہے۔ آذربائیجان کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ نگورنو کاراباخ میں آرمینی فوج کے اب تک 2 ہزار سے زائد فوجی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں، جب کہ 130 ٹینک وبکتر بند گاڑیاں اور 200 سے زائد توپیں ومیزائل سسٹم تباہ کر دیے گئے ہیں۔ آذبائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز سمیر گلییوف کا کہنا ہے کہ آرمینیا نے جنگ میں پہل کی، جس کے بعد ہم نے جوابی کارروائی کی۔ آرمینیا کی جارحیت سے اب تک 31 شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ ہم نے ایک شہر سمیت 26 علاقے فتح کرلیے ہیں۔ آذربائیجان کے ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز کا کہنا ہے کہ ہماری فوج انتہائی کامیابی سے آرمینیا کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آرمینیا کا بنیادی مقصد آبادیوں کو نشانہ بناکر دہشت پھیلانا ہے اور وہ مسلسل جینوا کنونشن کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ادھر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ آرمینیا کے غیر مفاہمانہ روّیوں کی وجہ سے 30 برسوں میں کاراباخ حقیقی معنی میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے