حکومت نے لندن میں مفرورسابق وزیراعظم نوازشریف کو سرکاری خرچ پر واپس لانے کا اعلان کردیا۔
معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو سرکاری خرچ پر واپس لایا جائے گا، کرپشن کے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا انہیں سرکاری خرچ پر واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں اگرانہیں کہا جائے یہ تنظیم سازی کر رہے ہیں تو غصہ کر جاتے ہیں سیاست میں زبان سے اختلاف رائے کا اظہار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت سے سزا ملنے کے بعد مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ دیا گیامسلم لیگ ن عوام کو دوبارہ 80 اور 90 کی دہائی کی طرح بے وقوف بنانا چاہتی ہے یہ سیاسی کلچر مسلم لیگ ن کا ہےجوکچھ جلیل شرقپوری کےساتھ کیاگیا، کیا وہ ہمارا سیاسی کلچر ہے۔
شہباز گل کا کہنا تھا کہ ن لیگ ووٹ کو عزت دو کی بات کرتی ہے لیکن منتخب نمائندوں کی تذلیل کرتی ہےجلیل شرقپوری کےساتھ گالی گلوچ کی گئی ،ان کی بےعزتی کی گئی،جلیل شرقپوری نےصرف یہ کہاتھانوازشریف کےبیانیےسےمتفق نہیں، جلیل شرقپوری کی کل تذلیل کی گئی، کیا وہ ووٹ لے کر نہیں آ ئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہذب معاشرے میں اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہوتا ہےن لیگ کا ووٹ کو عزت دو کا مسئلہ نہیں، مسئلہ لوٹ مار کو تحفظ دینا ہے،کیا عزت صرف شریف خاندان کی ہے کسی اور کی نہیں، نوازشریف صاحب خودکئی لوگوں کومٹھائیاں کھلانے،دفاترکےباہربیٹھ کرآئے۔

