حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ، سینئر نائب صدر عبدالجبار سومرو، جنرل سیکرٹری شکیل احمد شیخ، انفارمیشن سیکرٹری محمد احسن شیخ نے نومبر کے آغاز کے باوجود شوگر ملوں میں کرشنگ کا آغاز نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غریب محنت کشوں اور ہاریوں کے معاشی قتل عام کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ شوگر ایکٹ کے مطابق سندھ کے شوگر ملوں میں 15 ستمبر سے کرشنگ کا آغاز ہوجانا چاہیے اور جس کے لیے ملوں کو مرمت اور بوائلر اسٹارٹ کرنے کے لیے کم از کم 15دن پہلے یعنی یکم ستمبر سے کھل جانا چاہیے لیکن دو ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ صرف شوگر ملوں میں کرشنگ کا آغاز نہیں ہوا ہے بلکہ مرمت اور بوائلر اسٹارٹ کرنے کا عمل بھی ابھی تک شروع نہیں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ شوگر ملیں نومبر کے آخر تک ہی چلنے کے قابل ہوسکیں گی، یوں غریب محنت کش تین ماہ بے روزگار رہیں گے جبکہ گنے کی فصل تیار ہونے کے باوجود کٹائی نہ ہونے کے باعث ہاری شدید مشکلات کا شکار ہوں گے اور دوسری کوئی بھی فصل خصوصاً گندم کی بوائی کرنے کے قابل نہیں رہیں گے، اس طرح یہ غریب ہاریوں کا بھی معاشی قتل عام ہوگا اور ملک کی زرعی پیداوار بھی متاثر ہوگی جس کے نتیجے میں زرعی اشیاء خصوصاً گندم کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خطرہ بڑھ جائے گا، یوں غریبوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوجائے گی، اس ساری صورتحال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کین کمشنر نے اب تک اس معاملے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے، جس سے محنت کشوں اور غریب ہاریوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ان رہنمائوں نے کین کمشنر کو متنبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اپنے فرائض انجام دیں اور شوگر ملوں کو کرشنگ کا آغاز کرنے کا پابند کریں اور محنت کشوں کو یکم ستمبر سے تنخواہیں اور واجبات ادا کروائیں اور ہاریوں کو گندم کی مقرر قیمت بروقت ادا کرنے کے اقدامات کریں بصورت دیگر نیشنل لیبر فیڈریشن ہر سطح پر محنت کشوں کا ساتھ دیگی اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرے گی۔

