امریکا کے ادارہ سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی ) کے حکام اس امر پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں کہ کورونا کے مریض کو کتنے لمبے عرصہ کے لیے قرنطینہ میں رکھنا ضروری ہے۔ ان کے تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ اگر مریض کو مجوزہ 14دنوں کے قرنطینہ کے دوران ٹیسٹ کر لیا جائے تو نتائج کے مطابق قرنطینہ کا دورانیہ مختصر کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت طبی ماہرین کورونا وائرس سے سامنا کرنے والے لوگوں کوچودہ دن کے لے قرنطین ہونے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ سائنسدانوں کے پاس موجود ثبوتوں کے مطابق وائرس کو انسانی جسم میں پھلنے پھولنے کے لیے اتنا وقت درکار ہو تا ہے۔ لیکن حال ہی میں سی ڈی سی کے سینئر ترجمان کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ سی ڈی سی اپنی گائیڈ لائنز پر ہمیشہ نظر ثانی کرتی رہتی ہے اور عوام کے بہتر مفاد میں انھیں اپ ڈیٹ کرتی ہے۔سی ڈی سی کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے اکتوبر میں بھی ایک بریفنگ میں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ایجنسی قرنطینہ کا دورانیہ کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر قرنطینہ کے دوران ٹیسٹنگ کر لی جائے تو اس دورانیہ کو سات سے دس دنوں پر لایا جا سکتا ہے۔لیکن بغیر ٹیسٹنگ کے دورانیہ کم کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم مبینہ طور پر ایک متاثرہ شخص کو دوسرے افراد تک رسائی دے دیں اور وبا ءکے پھیلاؤ کا سبب بنیں۔ یہ غیر ضروری ہو گا اگر ہم لوگوں کو بغیر کسی انفیکشن کے چودہ دنوں کے لیے دنیا سے علیحدہ کر لیں۔

سی ڈی سی کے سابق صدر مسٹر ٹام فرائیڈن جو آج کل عالمی صحت عامہ تحریک Resolve to Save Lives. میں خدمات انجام دے رہے ہیں کے مطابق ہم سب جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ خطرناک اور رسک کا وقت چوتھے سے ساتویں دن تک ہوتا ہے اس کے بعد وائرس کی منتقلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ یہ متوقع مختصر دورانیہ سات سے دس دنوں کا ہو سکتا ہے جس کے لیے منفی ٹیسٹ رپور ٹ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کابڑا فائدہ مسافروں کو ہو گاجنھیں اس وقت کسی سفر سے پہلے اور بعد میں تقریباً اٹھائیس دنوں تک خود کو قرنطین کرنا پڑتا ہے۔ سی ڈی سی نے 20 نومبر کو انٹرنیشنل مسافروں کی گائیڈ لائن میں یہ ہدایات جاری کر دی ہیں کہ سفر کے تین سے چار دن بعد اپنا ٹیسٹ کروائیں اور خود کو قرنطین کیے رکھیں اگر ٹیسٹ منفی ہو تو سات دنوں کا وقت پورا کریں۔ ٹیسٹ نہ کروانے کی صورت میں مجوزہ چودہ دن کے قرنطینہ کا دورانیہ پورا کیا جائے۔ جس کے بعد علامات نہ ہونے کی صورت میں ٹیسٹ کروانا تجویز نہیں کیا گیا۔
مستقبل میں ایسی کوئی گائیڈ لائن جاری ہو جاتی ہے تو عوام کے لیے خود کو قرنطینہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق ان تجاویز کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی لیکن دسمبر میں جب دنیا کے زیادہ ممالک میں لوگ چھٹیاں مناتے ہیں سفر کرتے ہیں کرسمس کا اہتمام کرتے ہیں سی ڈی سی کی طرف سے دی گئی ایسی سفارشات کو بڑا ریلیف سمجھا جائے گا۔ اگر چہ ایسی کسی ایڈوائس سے ٹیسٹنگ پر زور بڑھ جائے گاخاص طور پر ان ممالک میں جہاں اب بھی محدود وسائل کی وجہ سے ٹیسٹوں کی روزانہ اوسط چند ہزار ہے اور دنیا میں قرنطینہ ہونے والے افراد کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی اور ٹیسٹنگ کا وقت آٹھ ماہ پہلے سے بہت بہتر ہے۔ جلدی نتائج کے لیے دنیا بھر میں بہت زیادہ کام ہوا ہے اور دنوں بلکہ گھنٹوں میں ٹیسٹ نتائج حاصل کیے جارہے ہیں۔
کورونا نے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ دنیا کی معیشت کو بھی ہلا دیا ہے، قرنطینہ ہونے سے انفرادی اور اجتماعی طور پر معاشی صورتحال بھی متاثر ہوتی ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن ہواسمارٹ لاک ڈاؤن ہو یا مایئکرو لاک ڈاؤن، سب معیشت پر ا ثر انداز ہوتے ہیں۔سی ڈی سی کے ایسے کسی فیصلہ سے معاشی سرگرمیوں سے کئی ممالک کی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے تاہم ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ اور ہاتھ دھونے کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ ماسک ہی اس وقت کورونا کے خلاف مؤثر ویکسین ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔
جمعتہ المبارک،27نومبر2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

