English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا تعلیمی اداروں کو بند کرنے میں ہی بہتری تھی۔۔۔؟

ملک میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر اسلام آباد میں وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں اہم فیصلے کئے گئے۔ چاروں صوبوں سے وزراء تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی اور اپنے صوبہ کے حوالے سے تجاویز دیں۔ تمام تجاویز کی روشنی میں 26 نومبر سے25 دسمبر تک ملک بھر میں تمام سکول،کالجز اور یونیورسٹیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے شفقت محمود نے واضح کیا کہ 25 دسمبر سے  10 جنوری تک سردیوں کی چھٹیاں ہوں گی اورتعلیمی ادارے دوبارہ 11 جنوری سے کھل جائیں گے۔

پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی موجود تھے۔انہوں نے واضح کیاکہ اس وقت ملک میں کورونا کیسز کی شرح7.46 فیصدہے اور ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر دو ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔اگر اس مرحلہ پر درست سمت میں سخت فیصلے نہیں کیے گئے تو ہیلتھ سسٹم پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

شفقت محمود  نے تجاویز کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی اداروں کے بند رہنے کے دوران تمام تدریسی کام آن لائن ہو گا۔ چھ ہفتوں کے بعد تعلیمی ادارے کھول دئیے جائیں گے اور کھولنے سے پہلے جنوری کے پہلے ہفتے میں نظر ثانی اجلاس بلایا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کیے جا ئیں اوران کا انعقاد پندرہ جنوری کے بعد کیا

جا ئے۔ پروفیشنلز کے امتحانات اور انٹری امتحان اپنی روٹین کے مطابق لیے جا سکیں گے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ یہ امتحانات ایک روزہ ہوتے ہیں اور ایس او پیزپر عمل کرتے ہوئے منعقدکروائے جا سکتے ہیں۔اسی طرح ٹیچرز کی ریکروٹمنٹ کے لیے امتحانات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

ہائیر ایجو کیشن کے لیے یونیورسٹیز آن لائن کلاسز کا اہتمام کریں گی۔پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طلباء جنھیں تعلیمی ضروریات کے لیے لیب سے استفادہ کرنا ہوتا ہے وہ بھی تعلیمی ادارے تک رسائی کر سکتے ہیں۔ وزیر تعلیم نے ہاسٹلز کے لیے تجویز کیا کہ صرف ایک تہائی طالب علموں کو ہاسٹل میں قیام کی اجازت ہو گی۔ان میں بیرون ملک سے آئے طلباء کے علاوہ وہ طلباء قیام کر سکیں گے جن کے علاقوں میں آن لائن کلاسز کے لیے انٹر نیٹ کی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

ایسے تمام فنی تعلیمی ادارے جہاں آن جاب ٹریننگ دی جاتی ہے اپنا کام جاری رکھیں     گے۔میڈیکل تعلیم کے اداروں میں جہاں طلباء کو کلینکل ٹریننگ دی جاتی ہے کھلے رہیں گے۔

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی)سے سفارش کر رہے ہیں کہ مارچ اپریل میں ہونے والے بورڈ کے امتحانات کو مئی اور جون میں منعقد کروایا جائے تاکہ بچوں کو اسکول کھلنے کے بعد اپنی باقی ماندہ تیا ری مکمل کرنے کا وقت مل جائے۔ انہوں نے یہ بھی سفارش کی کہ کوروناکے باعث اگلا تعلیمی سال سرکاری طور پر اپریل میں شروع کرنے کے بجائے اگست سے شروع کیا جائے اور گرمیوں کی چھٹیاں ختم کر دی جائیں تاکہ نصاب مکمل کیا جا سکے۔

وزیر تعلیم نے یقین دلایا کہ تعلیم سے متعلق اس سارے معاملہ پر نظر ثانی کی جاتی رہے گی اور حالات کے مطابق فیصلوں میں تبدیلی ہوتی رہے گی۔ تاہم والدین اوردیگر متعلقہ لوگوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور پورا کرنے میں حکومت کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔

اس میٹنگ میں سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے تجویز دی کہ تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پرائمری سکول بند کیے جانے چاہیے اور باقی تعلیمی نظام چلتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے سندھ میں بغیر امتحان کے اگلی کلاسز میں ترقی دینے کی بھی مخالفت کی اور تجویز کیا کہ حکومت کو بینکوں کے ساتھ مل کر پرائیوٹ  اسکولوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

پنجا ب کے وزیر تعلیم  مراد راس نے اساتذہ کے لیے ہفتہ میں دو دن  اسکول آنا لازمی قرار دیااور واضح کیا کہ جن علاقوں میں آن لائن ہوم ورک نہیں دیا جا سکتا وہاں مقامی طور پر طے کیا جائے گا کہ بچوں تک ہوم ورک کیسے پہنچایا جائے۔ پنجاب کے وزیر تعلیم نے وفاقی  حکومت پر زور دیا کہ اسکول بند ہونے کے بعد بچوں کے غیر ضروری طور پر شاپنگ مالز اور پارکس میں جانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔ تاکہ وبا پرصحیح معنوں میں قابو پایا جا سکے۔

اس سال کے شروع میں وبا کی پہلی لہرکی وجہ سے تعلیمی ادارے مارچ سے 15ستمبر تک بند رہے تھے۔کورونا کی دوسری لہر میں تعلیمی اداروں میں وبا کی شرح بیاسی فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے مطابق اس مرحلے پرتعلیمی اداروں کا بند ہونا انتہائی ضروری ہے۔

پیر،23نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے