English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فرنچ قیادت مسلم دشمنی سے باز نہ آئی،مساجد کا معائنہ

القمر

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرنچ قیادت مسلم دشمنی سے باز نہ آئی۔مساجد کا معائنہ۔تفصیلات کے مطابق فرانسیسی حکام نے اسلامی انتہا پسندی سے ممکنہ روابط کی بنیاد پر درجنوں مساجد اور عبادت کے لیے مختص ہالز کا معائنہ شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیرِ داخلہ جیرالڈ ڈارمانین نے اس کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر مساجد علیحدگی پسندی کی حوصلہ افزائی کرتی پائی گئیں تو انھیں بند کر دیا جائے گا۔ایسا انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک قانون متعارف کرائے جانے کے ایک ہفتہ بعد کیا جا رہا ہے۔یہ اکتوبر میں ہونے والے حملوں کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے جن کا الزام اسلامی انتہا پسندوں کو دیا جاتا ہے۔ ان واقعات میں ٹیچر سیمیول پیٹی کا سر قلم کیے جانے کا بہیمانہ واقعہ بھی شامل ہے۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق جیرالڈ ڈارمانین نے علاقائی سکیورٹی کے سربراہوں کو بھیجے گئے ایک نوٹ میں کہا کہ 76 مساجد اور نماز پڑھنے کے ہالز کے خصوصی چیکس اور نگرانی ہو گی جن میں سے 16 پیرس کے علاقے میں واقع ہیں۔انھوں نے ان میں سے 18 کے متعلق فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ایک ٹویٹ میں انھوں نے اسے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا اور بے مثال عمل قرار دیا۔روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ریاستی انسپکٹرز ان کی مالی معاونت، امام کے روابط اور ممکنہ طور پر بچوں کو قرآن سکھانے کے اسکولز کا معائنہ کریں گے۔پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سکوفیلڈ کے مطابق حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ ڈارمانین کے اختیارات کو فرانس میں پولیس کی جانب سے بدسلوکی اور پولیس آفیسرز کی شناخت کے تحفظ کے مجوزہ قانون کی وجہ سے دھچکہ لگا ہے۔فرانس میں کل دو ہزر چھ سو عبادت گاہیں ہیں اور اس حوالے سے 76 عبادت گاہوں کا معائنہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔وزیرِ داخلہ کہتے ہیں کہ حقائق کے مطابق فرانس کے مسلمانوں میں بہت زیادہ انتہا پسندی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ’تقریباً فرانس میں سبھی مسلمان جمہوریہ کے قوانین کا احترام کرتے ہیں اور (ریڈکلائزیشن) سے انھیں دکھ ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے