لندن/ نیوریاک (آئی این پی) بھارتی حکومت کے متنازع زرعی قوانین کے خلاف لندن میں ہزاروں سکھوں نے احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن کا گھیرائو کرلیا۔ مظاہرے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ احتجاج کے سبب وسطی لندن کا نظام زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا۔ کسانوں کی حمایت میں ریلی سے وسطی لندن کی فضا بھارت کے خلاف نعروں سے گونج اُٹھی ہے جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کسانوں کے معاشی قتل عام میں ملوث ہے ۔ علاوہ ازیں وائس آف فریڈم کے صدر امرجیت سنگھ نے کہا ہے کہ سکھ کمیونٹی ہندو توا آئیڈیالوجی کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑی ہو گئی ہے‘ پاکستان سکھوں کی کھل کر حمایت کرے‘ نئی دہلی میں لاکھوں سکھ مودی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں‘ مودی کی کسانوں کے خلاف پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ اتوار کو ٹوئٹر سے جاری اپنے وڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا ایجنڈے کے تحت5 اگست کا اقدام اٹھایا گیا جس کا مقصد شہریت کا قانون لا کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری منصوبے سے پاکستان نے سکھوں کے دل جیتے ہیں ‘سکھوں کے معاملے پر بات کرنے کا حق پاکستان کا کینیڈا سے زیادہ ہے‘ پاکستان اقوام متحدہ میں سکھوں کی آواز بنے۔
لندن میں ہزاروں سکھوں نے بھارتی ہائی کمیشن کا گھیرائو کرلیا
القمر
