اسلام آباد: ہائی کورٹ نے خاتون رکن اسمبلی کے شوہر سے جھگڑا کرنے کے بعد ریڈ زون میں فائرنگ کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج کو نوکری سے برطرف کردیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم پی اے کے شوہر سے جھگڑے کے بعد اپنے دفاع میں فائرنگ کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج محمد جہانگیر اعوان کو نوکری سے برطرف کردیا۔ انکوائری کے بعد جج کی برطرفی کا حکم چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دیا۔
رجسٹرار ہائیکورٹ نے جہانگیر اعوان کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ 15ستمبر 2020 کو جہانگیر اعوان کو انکوائری کمیشن میں پیشی کیلئے نوٹس کیا گیا اور کمیشن رپورٹ کے مطابق جہانگیر اعوان مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر اعوان کا ریڈزون میں پیٹرول پمپ پر شہری کے ساتھ جھگڑاہوا تھا، ان کے خلاف مختلف الزامات کی بنا پر انکوائری پہلے سے زیر التواء تھی، جہانگیراعوان ریڈزون واقعہ میں مس کنڈکٹ کے مرتکب قرارپائے۔
خیال رہے کہ ریڈ زون میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی عابدہ راجہ کے شوہر چوہدری خرم اور ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان کے مابین گاڑی کی آگے بڑھانے کے معاملے پر تلخی کلامی ہوئی جس کے بعد چوہدری خرم نے جج جہانگیر اعوان کو تھپڑ ماردیا۔ ہاتھا پائی شروع ہونے کے بعد جہانگیر اعوان نے اپنی گاڑی سے پستول نکال کر ہوائی فائر کیے تھے۔

