English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالت سود کے خاتمے کا حکم نہیں دے سکتی ، اسٹیٹ بینک

اسلام آباد(آن لائن+صباح نیوز) اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ عدالت سودی نظام کے خاتمے کا حکم نہیں دے سکتی ۔پیرکو سودی نظام کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔اس موقع پراسٹیٹ بینک کے وکیل سلیمان اکرم راجا نے موقف اپنایا کہ ورلڈ بینک بھی اسلامک بینکنگ کو سپورٹ کر رہی ہے، آئین کے آرٹیکل 29 کے تحت یہ پالیسی کا معاملہ ہے، اس میں عدالت مداخلت نہیںکرسکتی، آرٹیکل 38بھی حکومت کو پابند نہیں کرتا کہ اتنے عرصے میں سود ختم کیا جائے،اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ریاست جتنا جلدی ممکن ہو گا سود ختم کرے گی،اس ضمن میں اقدامات اٹھانا پارلیمنٹ یا حکومت کا کام ہے، عدالت کانہیں، اسٹیٹ بینک، حکومت اور پارلیمنٹ معاملہ کو دیکھ رہے ہیں،قانون سازی بھی ہورہی ہے۔اسٹیٹ بینک کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمانڈ آرڈر میں شرعی عدالت کو ہدایت کی ہے کہ وہ دائرہ اختیار پر بھی اپنا فیصلہ سنائے۔ جماعت اسلامی کے وکیل قیصر امام ایڈووکیٹ نے اسٹیٹ بینک کے وکیل کے دلائل سے اختلاف کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت اس عدالت کو سماعت کا اختیار حاصل ہے،درخواست گزاروں کی طرف سے کسی آئینی شق کو چیلنج نہیں کیا گیا،درخواستوں میں یہ بھی استدعا نہیں کی گئی کہ آئین سے انٹرسٹ کا لفظ ختم کیا جائے،حکومت یا فریقین جس چیز کو ربا سمجھتے ہیں وہ عدالت کے سامنے رکھیں،آئین ساز اس وقت آگاہ تھے کہ نظام میں ربا موجود ہے،اس لیے انہوں نے ربا ختم کرنے کی بات کی ،حکومت اس لفظ کی تشریح لے کر آجائے،ہوسکتا ہے کسی جگہ پر انٹرسٹ کی تشریح ربا ہو اور کہیں پر نہ ہو۔وکیل جماعت اسلامی پروفیسر ابراہیم نے موقف اپنایا کہ آئین کی رو سے قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں سماعت کے دوران چاروں صوبوں اور اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے دائرہ کار کو تسلیم کیا ہے لیکن اکیلے سلمان اکرم راجا آج بھی اس کو چیلنج کر رہے ہیں۔ پروفیسر ابراہیم نے عدالت عظمیٰکے متعدد فیصلوں کے حوالے بھی دیے۔چیف جسٹس شرعی عدالت نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل شرعی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرچکے ہیں، ان کا موقف عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے ،ہمیں علم نہیں ہے اٹارنی جنرل تبدیل ہو چکے ہیں یا نہیں، کیا اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور وفاق کا موقف تبدیل ہو گیا ہے؟اس دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس کا تحریری موقف عدالت میں موجود ہے اوراس پر قائم ہیں۔ چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی نے کہا کہ یہ عدالت آئین اور قانون میں تبدیلی کا حکم نہیں دے سکتی اور نہ ہی کوئی قانون بنانے سے روک سکتی ہے، ہم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے پابند ہیں، ملک میں 5بینک اسلامک بینکنگ کام کر رہے ہیں،حکومت جو قانون سازی کر رہی ہے،پارلیمنٹ میں کیا پیش رفت ہوئی ہمیں آگاہ کریں۔وفاقی شرعی عدالت نے اس موقع پر اگلے سال جنوری تک مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے سے متعلق اسٹیٹ بینک کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کو طویل عرصے تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا اور عدالت مزید انتظار نہیں کر سکتی۔ عدالت نے فریقین سے تحریری موقف طلب کرتے ہوئے سماعت 18دسمبر تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے