اسلام آباد(نمائندہ جسارت)حکومت مخالف اتحادپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔بدھ کو مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں پی ڈی ایم کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجس میں چیئرمین پی پی پی بلاول زرداری، ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز،یوسف رضاگیلانی، راجا پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی اور شیری رحمن،پرویز رشید، احسن اقبال، اور مولانا اسعد محمود بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن استعفوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہے،پیپلزپارٹی کے تحفظات پر مزید ملاقاتوں پر اتفاق ہوا ہے۔پیپلزپارٹی نے موقف اختیار کیاہے کہ سب سے پہلے پی ڈی ایم کے اعلان شدہ شیڈول پر عملدرآمد کیا جائے، استعفے آخری کارڈ ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے خلاف ن لیگ ہر آپشن استعمال کرنے کے موقف پر قائم ہے۔پی ڈی ایم کی استعفوں کے معاملے پر جلد دوبارہ اہم بیٹھک ہوگی ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے مرکزی ترجمان میاں افتخار نے بتایا کہ پہیہ جام ہڑتال سمیت ہمارا شیڈول تیارہوگیا ہے،لاہور جلسے اس کا اعلان کیا جائے گا۔ 13 دسمبر کے جلسے پر توجہ مرکوز ہے۔ جنوری میں ڈاکٹروں،وکلا، تاجروں اور کسانوں سے رابطہ کریں گے۔علاوہ ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ہر جمہوری حربہ استعمال کریں گے ، لاہور میں تاریخی جلسہ ہرقیمت پر ہوگا، ایک راستہ روکا تو دوسرا راستہ بنانا ہے اور دوسرا راستہ روکا تو تیسرا راستہ بنانا ہے، اگلے دنوں میں حکمت عملی بھی واضح کریں گے کہ استعفے کس وقت ڈھال بنا کر ان کے سر پر دے مارنا ہے ،ملک میں آمریت کے مہرے نے جمہوریت کو دفن کردیا۔ اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سب سلیکٹڈ حکومت اور ان کے سہولت کاروں کو گھر بھیجنے کے لیے نکلے ہیں، تمام 11جماعتیں ایک صفحے اور ایک اسٹیج پر ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ جلسے کا مقام تبدیل نہیں کریں گے،جلسہ مینار پاکستان پر ہی ہوگا، ارکان اسمبلی کے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع ہوں گے۔

