English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تحقیقاتی اداروں کی ناکامی سے بدعنوانی اور جرائم کا خاتمہ خواب بن کر رہ گیا

کراچی (رپورٹ: محمد انور) سیاست ، صحافت، تعلیم کے شعبے سے وابستہ شخصیات نے قومی احتساب بیورو (نیب ) سمیت دیگر تمام تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارے کرپشن اور کریمنل ایکٹیویٹی ختم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ جامعہ کراچی کے شعبہ کریمنالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر غلام محمد برفت کا کہنا ہے کہ ہم اور ہمارے اداروں سے وابستہ افراد پیشہ ورانہ کارکردگی دکھانے کے لیے آزاد نہیں ہیں‘ سچ تو یہ ہے‘ ہم سب معاشرے کے بااثر عناصر اور اداروں کے دباؤ میں رہتے ہیں‘ ایسی صورت میں یہ سوال کہ کیا ہمارے تحقیقاتی ادارے معاشرے سے کرائم اور کرپشن ختم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں؟ مضحکہ خیز ہے جس کا جواب مختصر اور واضح الفاظ میں یہی ہے کہ ” بالکل نہیں بلکہ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے آزادی و ایمانداری سے فرائض انجام دے سکتے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ معاشرے کی بہتری کے لیے ہم مایوس ہیں‘ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اور آپ جیسے لوگ معاشرے سے ناپسندیدہ سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ‘ جامعہ کراچی میں شعبہ کریمنالوجی کے قیام کا مقصد بھی سوسائٹی کو ہر طرح کی بدعنوانی اور جرائم سے پاک کرنا ہے۔ جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے سربراہ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ نیب تو سیاسی لوگوں کو دبانے کا کام کر رہا ہے‘ نیب کی ساری توجہ سیاست دانوں پر دباؤ ڈالنے پر ہے جبکہ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ تو اس لیے ہی ہے کہ یہ کرپشن کرے ‘ یہ لوگ کرپشن کے الزام میں کسی کو بھی بلاتے ہیں پھر دھمکی اور دباؤ ڈال کر ان سے پیسے نکلوالیتے ہیں‘ ان دنوں یہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اہلکاروں کو بلاتے ہیں پھر غیر قانونی تعمیرات کی پشت پناہی کا الزام لگاکر ان سے پلی بارگین کرکے انہیں غیر قانونی تعمیرات کرانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ سیف الدین کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی ساکھ بہتر ہے لیکن وہاں بھی اب کچھ ایسے لوگ آگئے ہیں جو لوگوں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں تاہم اسے بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر اینٹی کرپشن کا محکمہ تو ایسا ہے جس کا کام کرپشن کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو ٹھیک نہیں کرے گی ‘ اس حکومت کی وجہ سے تو اینٹی کرپشن کا محکمہ پھل پھول رہا ہے۔ ممتاز صحافی اور مقامی روزنامے کے ایڈیٹر مقصود یوسفی نے کہا ہے کہ نیب تو الگ ادارہ ہے جس کا کام قومی خزانے سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنا ہے‘ اس مقصد کے لیے وہ کرپشن کے ملزمان کو گرفتار کرتے ہیں ان میں بعض ملزمان پلی بارگین کرکے لوٹی ہوئی رقم کا ایک حصہ جمع کرا دیتے ہیں مگر اس طرح کی کارروائی سے جرائم اور بدعنوانی کے واقعات ختم نہیں ہوتے‘ ہمارے ملک میں عام پریکٹس یہ ہے کہ ہمارے تحقیقاتی ادارے مجرموں کو اگر پکڑ بھی لیں تو ان کا مقصد انہیں سزا دلانا نہیں بلکہ ذاتی فائدے حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے تحقیقاتی اداروں کے افسران ایمان داری اور دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دیں تو معاشرے سے کرپشن اور کرائم ختم نہیں تو کم ضرور ہوجائیں گے۔ فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رہنما اور ممتاز تاجر غضنفر علی خان کا کہنا ہے کہ ہمارے تمام ہی تحقیقاتی ادارے وہ کردار ادا نہیں کر رہے جو انہیں ادا کرنا چاہیے جس کی وجہ سے کرپشن اور کرائم کا خاتمہ ایک خواب بن چکا ہے۔ انہوں نے بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ہونے والی کرپشن اور اس کی روک تھام کے لیے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کے کردار پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس قدر کرپشن ہے اور اس کرپشن و کرائم کو ختم کرنے میں اگر یہ ادارے ناکام ہوچکے ہیں تو انہیں ختم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پورا ملک کرپشن میں ملوث ہوچکا ہے اور اس کرپشن کو ختم کرنے کے لیے سرگرم نیب پلی بارگین کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری ان حالات کی وجہ سے کرپٹ عناصر کے خلاف جنگ کر رہی ہے اور سب سے زیادہ پس بھی رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے