واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے 2 بمبار طیاروں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی فضائوں میں پرواز کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں خطے میں ایرانی مداخلت کے خلاف تہران کے لیے واضح پیغام ہیں کہ اگر ایران نے خطے میں کسی قسم کی تخریبی کارروائی کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ امریکی طیاروں نے جمعرات کے روز خلیجی پانیوں پر اڑانیں بھریں۔ یہ ایک ماہ کے دوران امریکی جنگی طیاروں کی یہ دوسری بار پروازیں ہیں۔ اس خطے پر 2 بی 52 ایچ اسٹریٹفریس طیاروں کی پروازایک مہینے سے بھی کم عرصے میں اپنی نوعیت کی دوسری پرواز تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینیتھ میکنزی کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے زیر اثر ملیشیاؤں کو جدید ہتھیار فراہم کیے اور اب وہ تہران سے رجوع کے بغیر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ میکنزی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کی ہلاکت پر شرمندگی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران جواب میں اسرائیل پر ضرب لگائے گا۔ امریکی جنرل نے واضح کیا کہ ایران کی سست روی سے ساتھ ردعمل دینے کی عادت ہے اور جوابی کارروائی میں وقت لگاتا ہے۔ میکنزی نے باور کرایا کہ عراقی حکومت ایران نواز گروہوں کے خلاف کام کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ یہ واشنگٹن اور بغداد کے درمیان اچھے کام کی جانب اشارہ ہے۔ جنرل میکنزی نے کہا کہ ایران امریکا کو عراق سے باہر کرنے میں ناکام رہا ہے۔
امریکی بمبارطیاروں کی خلیجی خطے پر پروازیں
القمر
