برلن( رپورٹ: مطیع اللہ)کورونا وباکے تیسرے فیز میںمریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے باعث جرمنی بھر میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاون کرنے کا اعلان کردیا گیا۔16 دسمبر سے تمام سپر مارکیٹیں اسکولز،ادارے 10 جنوری تک بند رہیں گے۔مختلف صوبوں میں وباکے مریضوں میں کمی یا وائرس کا پھیلاؤ روک تھام کی کوششوں کی صورت میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کو دے دیا جبکہ دارالحکومت برلن کو 10 جنوری تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔مئیر برلن نے کورونا مریضوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لاک ڈاؤن پر زور دیا۔اتوار کو برکن منعقدہ 16 ریاستوں کے زومنگ کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے جرمنی بھر میں 16 دسمبر سے 10 جنوری، 2021ء تک سخت ترین لاک ڈائون نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔تمام لاک ڈؤان میں سب سے سخت ترین لاک ڈائون تصور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں نافذ کردہ جزوی لاک ڈائون کورونا کی وباکو قابوپانے میںناکام ثابت ہوا اس لیے اب سخت فیصلے کیے گئے ہیں۔جرمنی بھر کے اسپتالوں میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے باعث انتہائی نگہداشت وارڈ اور وینٹی لیٹرز کے کی استعمال کے ساتھ کچھ کمی محسوس کی جارہی ہیں۔انہوں نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے تعاون کریں اور کورونا وبا کے خلاف حکومت کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔
جرمنی حکومت نے ملک میں لاک ڈائون لگانے کی منظوری دیدی
القمر
