واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے کہا ہے کہ ہیکروں نے وزارت خزانہ اور محکمہ تجارت کو زبردست سائبر حملے کا نشانہ بنایا ہے جب کہ ایک روز قبل ہی امریکی حکام نے انتباہ جاری کیا تھا کہ روسی حکومت سے وابستہ ہیکر حساس اعداد شمار کو نشانہ بنانے کے لیے آسان اہداف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی تفتیش کاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے 2 محکموں پر حالیہ بڑے سائبر حملوں میں روس کا ہاتھ ہے اور ہیکروں نے ایک آئی ٹی کمپنی سے بھیجے گئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے نقب لگائی۔ امریکی محکمہ تفتیش، ایف بی آئی اور داخلی سلامتی کا سائبر سیکورٹی ڈویژن سائبر حملے کی تفتیش کررہا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان جون الیاٹ نے کہا کہ حکومت ان خبروں سے واقف ہے اور ہم اس صورت حال سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہے ہیں۔ سائبر سیکورٹی کے ماہر دمتری الپروویچ کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کے معلوم سنگین ترین جاسوسی کی مہموں میں سے ایک ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی 40 بڑی فرموں کے آن لائن ڈیٹا پر سائبر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنیوں کے کمپیوٹر نیٹ ورک پر حملوں میں فلسطین نواز ہیکر ملوث ہیں۔ اسرائیلی لاجسٹک اینڈ مشن سروسز کمپنی اورین نے تصدیق کی ہے کہ وہ سائبر حملے سے متاثر ہوئی ہے۔
