نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں عدالت نے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ پولیس نے ان پر کورونا وائرس سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات کے تحت کیس درج کیے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دہلی کی عدالت نے 36 غیر ملکی مبلغین کو بری کرتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ذمے دار پولیس افسر اور نام نہاد تفتیش کرنے والے اہل کاروں کو سرزنش بھی کی۔ یاد رہے کہ نئی دہلی کی پولیس نے مارچ میں الزام عائد کیا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے سیکڑوں افراد نے کورونا وائرس سے متعلق سخت ہدایات کے باوجود دہلی کے علاقے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان سیاحتی ویزے پر بھارت آئے تھے اور پھر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبلیغی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔ عدالت نے پولیس کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے اور اس کے بر عکس ملزمن کے بیانات میں سچائی صاف نظر آتی ہے کہ وہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کے دوران تبلیغی مرکز میں موجود ہی نہیں تھے۔ تبلیغی ارکان کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں مختلف مقامات سے حراست میں لیا تھا، تاکہ وزارت داخلہ کی ہدایات کے مطابق بدنام کرنے کے ساتھ ہی ان پر مقدمات بھی دائر کیے جا سکیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تفتیش کرنے والے پولیس افسر نے ھائی ہزار غیر ملکیوں میں سے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے 952 کی صحیح شناخت کرلی ہو اور ان پر مقدمہ دائر کر دیا گیا۔
