موغادیشو (انٹرنیشنل ڈیسک) صومالیہ کے وزیر اطلاعات عثمان ابو بکر دوبے نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے کینیا سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی کینیا کے سفارت کاروں کو بھی صومالیہ ترک کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کینیا کے عوام کو امن پسند قرار دیتے ہوئے ملکی قیادت پر صومالیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق صومالیہ کے دورافتادہ شمالی علاقے میں واقع نیم خود مختار خطے کے صدر موسے بیہی عابدی کے نیروبی کے ایک مبینہ دورے کے بعد یہ تنازع پیدا ہوا ہے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق کینیا کے صدر اوہورو کینیاتا نے پیر کے روز بذات خود عابدی کا نیروبی میں استقبال کیا تھا۔ کینیا صومالیہ کے جبّہ لینڈ کے نام سے معروف جنوبی صوبے کے صدر احمد مدوبے کی بھی حمایت کرتا رہا ہے اور صومالیہ کو اس پر بھی طویل عرصے سے اعتراض ہے۔ واضح رہے کہ صومالیہ کی مرکزی حکومت آیندہ برس ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے جب کہ وفاقی حکومت کے ساتھ احمد مدوبے کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔
