ترکی نے امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے روس سے دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤشو غلو نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے ایس 400 میزائل سسٹم خریدیں گے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی بھی امریکا پر جوابی پابندیاں عائد کرے گا۔ ترکی پر پابندیوں کا فیصلہ سیاسی اور قانونی طور پر غلط ہے۔
مولود چاؤشو غلو نے کہا “امریکی پابندیاں ترکی کی خود مختاری پر حملہ ہے”۔
15 دسمبر کو امریکا نے ترکی کے محکمہ دفاعی پیداوار پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ واضح اشارہ دیا ہے ترکی پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کرائیں گے۔ ترکی کے پریزیڈنسی آف ڈیفنس انڈسٹری کو امریکی ایکسپورٹ لائسنسز پر پابندی عائد کردی گئی۔ ترک ایجنسی کے صدر اسماعیل دیمر کو امریکی ویزا نہیں دیا جائے گا۔
ترکی نے پابندی کے ردعمل میں کہا تھا کہ ایس ایس بی ملٹری پروکیورمنٹ ایجنسی پر امریکی پابندی قابل مذمت ہے۔
ترک وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے غیر منصفانہ فیصلے پر نظرثانی کرے۔ معاملے کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر تیار ہیں۔

