English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا ویکسین اور پاکستان میں اخلاقی مسائل : شفقنا تجزیہ

القمر

پاکستانی حکومت ضروریات کے مطابق کرونا ویکسین کی فراہمی کےلیے ادویات کی مختلف کمپنیوں، اداروں اور ریگولیٹری تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا یہ کوششیں برقت انتظامی امور کی تکمیل میں مدد دیں گی یا نہیں ۔ اصل بحث اس ویکسین سے جڑےہوئے اخلاقی تفکرات ہیں۔

جب اخلاقیات کی بات آتی ہے تو اس کےلیےبیل مونٹ کا شخصی آزادی، اس کے مفادات اور منصفانہ حصےکا اصول ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ جہاں تک اس ویکسین کی دستیابی کی بات ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا متاثرہونے، آبادی کی تعداد کو لاحق خطرات اور کرونا سےمتاثرہونے کے خطرے کی شدت کی بنیاد پراس ویکسین کی منصفانہ بنیادوں، برابری کی سطح اور بروقت دستیابی کو یقینی بنایا جائےگا؟ یاپھروہی عمومی بین الاقوامی، مقامی اورخطی تقسیم کا کروناویکسین کی تقسیم پراثراندازہوگی جو دیگرمعاملات میں ہمیں نظرآتی ہے۔

پاکستان نے حفاظتی ٹیکوں کا توسیع پروگرام 1978 میں شروع کیا جس کا مقصد بچوں کو ٹی بی، پولیو، خناق، تشنج ، کالی کھانسی اور خسرہ سے بچانا تھا۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس پروگرام کے مقاصد مکمل طور پر حاصل نہ ہو سکے۔ شائع شدہ رپورٹس کے مطابق اس پروگرام میں پنجاب نے 62 فیصد، سندھ نے 51 فیصد، کے پی کے نے 31 فیصد اور بلوچستان نے 81 فیصد کامیابی حاصل کی۔اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ صحت کے بنیادی مسائل میں اس قدر خراب کارکردگی کی صورتحال میں پاکستان کرونا وبا کو بہتر طور پر کیسے قابل استعمال بنا سکتا ہے ؟

یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ ویکسین پوردی دنیا میں دستیاب ہوگی؟ ہم 70 فیصد آبادی کے اندر ریوڑ سے استثنٰی قوت مدافعت کیسے پیدا کریں گے؟ کیا اس ضمن میں قومی بائیو ٹیک کمیٹی سے کسی قسم کی بحث کی جائے گی اور اس سے کرونا ویکسین کے حوالے سے اس کی سفارشات پر عمل کرے گی؟کیا ویکسین کے حوالے سے کوئی سائینٹفک باڈی تشکیل دی جائے گی؟ جس طرح پولیو ٹیموں پر اکثروبیشتر حملے ہوتے ہیں کیا اس ویکسین کی ٹیموں پر اس طرح کے حملوں کی صورت میں تحفظ کی کیا صورت ہوگی؟ بعض مذہبی رہنما اور دیگر مذہب سے جڑی شخصیات اس ویکسین کے حوالے سے سازشی نظریات کی حمایت کر رہے ہیں کہ یہ ویکسین جنس کو تبدیل کر دے گی اور ہماری سوچوں اور عقائد کو کنٹرول کرے گی؟ اس ضمن میں حکومت کا بیانیہ کیا ہے؟

یہاں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہماری ویکسینیشن کے لیے ہماری ترجیح ایسی آبادی ہے جو کہ ذیابیطس، گردوں اور جگر کی بیماریوں کے علاوہ پھیپھڑوں اوردل کی بیماریوں کا شکار ہے اور پھر اس مستزاد پاکستان کی بیشتر آبادی قوت مدافعت کے مسائل سے بھی نبرد آزما ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی بزرگ آبادی کو ترجیح دینا ہوگی جو کہ سب سے زیادہ رسک پر ہے۔ اس کے بعد صحت کے شعبے میں اولین صفوں میں کام کرنے والی درمیانی اور بڑی عمر کی نرسیں اور ڈاکٹرز بھی اولین ترجیحات میں ہونے چاہییں۔ جبکہ کرونا وارڈز میں کام کرنے والا جونیر سٹاف بھی ویکسین کی اولین ترجیحات میں ہونا چاہیے۔ اس سارے عمل میں ایک بات جوا نتہائی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کیا نومولودوں کو بھی یہ ویکسین دی جائے گی جبکہ اس حوالے سے کوئی ٹرائل بھی نہیں ہوئے؟

ایک سوال جو بہت زیادہ پوچھا جارہا ہے کہ کیا ویکسین میں بھی طاقتوروں اور سرمایہ داروں کو فوقیت دی جائے گی؟

آخری بات کہ کیا اس ویکسین کا استعمال درست ہوگا؟ ہماری طاقتور مذہبی کلاس اور سیاسی شخصیات جو کہ تمام تر احتیاطی تدابیر کو ہوا میں اڑا چکے ہیں اور جان بوجھ کر نہ تو سماجی فاصلے کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی ماسک کے استعمال میں احتیاطی تدابیر کرتے ہیں۔

ویکسین کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا قومی سطح پر جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی، میڈیکل سنٹرز اور خدمات مہیا کرنے والوں کو پالیسی میکرز، بائیو ایتھیسٹس، ڈرگ ریگولیٹری باڈیز اور عوامی صحت کے ماہرین کے ساتھ مل کر پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔ اس وقت اس حوالے سے تمام تر نگاہیں موجودہ حکومت اور این سی او سی پر مرکوز ہیں۔

جمعتہ المبارک، 18 دسمبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے