لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے ہرکاروں کا اندرون ملک جرائم میں بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوگیا۔ برطانوی ایجنسی اس سے قبل افغانستان، عراق سمیت دیگر ممالک میں جنگی جرائم میں ملوث رہ چکی ہے،تاہم اسے اندرون ملک کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق انویسٹی گیٹری پاورز کمشنرز آفس نے اپنے سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ برطانیہ خفیہ طاقتوں اور ایجنسیوں کا استعمال کیسے کرتا ہے۔ لندن حکومت نے اس رپورٹ کو خفیہ رکھنے اور منظر عام پر آنے سے رکوانے کی کوشش کی، لیکن اس میں ناکامی ملی۔ اس سلسلے میں ایک ٹریبونل کے تحت سماعت جاری تھی اور لندن حکومت نے اس کارروائی کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی تھی۔ طویل سماعت کے بعد ٹریبونل نے کہا بیرون ملک جاسوسی کرنے والی ایم آئی 6کے ایجنٹوں کو1994ء سے ایک قانون ’جیمز بانڈ کلاس‘ کے تحت خطرات سے نمٹنے کے لیے غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائیوں کا اختیار دی گیا تھا، تاہم قانون میں واضح طور پر اندر ون ملک کوئی کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان میں ایک قانونی مسودے کی منظوری اپنے آخر مراحل میں ہے، جس میں واضح کیا جائے گا کہ ایجنسیاں کس صورت میں اپنے مخبروں کو غیر قانونی کام کرنے کا اختیار دے سکتی ہیں۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایم 5فائیو جو برطانیہ کے اندر خفیہ سرگرمیوں کا ادارہ ہے، وہ بھی اپنے مخبروں کو مجرمانہ کارروائیوں کی اجازت دیتا رہا ہے۔ نگراں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2019ء میں خفیہ ایجنسی نے ملک سے باہر ایک ایجنٹ کو بھرتی کیا اور معمول کے مطابق وزیر خارجہ سے اسے جرائم کا ارتکاب کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس وقت ملک کا وزیر خارجہ کون تھا۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ انکشافات اور رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ ایم آئی 6 کے معاملات بے ترتیبی کا شکار ہیں۔ خفیہ ایجنسی متنازع قانون کو کالعدم ہونے سے بچانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔
