ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سعودی عرب نواز صدر منصور ہادی کی حکومت اور امارات کی مددیافتہ جنوبی انقلابی کونسل نے نئی کابینہ تشکیل دے دی۔ فریقین کے درمیان طے پائے ریاض معاہدے کے دائرہ کار میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ قرار داد کے ساتھ یمنی وزیراعظم معین عبدالملک کی زیر قیادت 24 وزرا پر مشتمل اور عبوری کونسل و موجودہ حکومت کے مساوی تعداد میں وزرا کی تعیناتی کے ساتھ نئی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ اتحادی حکومت حوثی باغیوں کے خلاف ایک مشترکہ محاذ ہو گی۔ اس نئی حکومت کو سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے یمنی بحران کے خاتمے اور ایک سیاسی حل کے حصول کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یمن 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سے اب تک بدترین بحران اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے ریاض معاہدے پر عمل کے سلسلے میں اس مثبت پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ گریفتھس نے اس اقدام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے استحکام آئے گا، ریاستی اداروں میں بہتری آئے گی اور سیاسی شراکت داری کی سطح بلند ہو گی۔ خصوصی ایلچی نے اسے یمن میں تنازع کے مستقل سیاسی حل کی جانب ایک مرکزی اقدام شمار کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے بھی یمن میں حکومت کی تشکیل اور یمنی فریقوں کی جانب سے ریاض معاہدے پر عمل کی خواہش کو سراہا۔
