کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں امریکا کی سب سے بڑے ائر بیس پر 10 راکٹس داغے گئے جن میں سے 4 اڈے کے اندر گرے جب کہ 6 کو فضا میں ہی ناکارہ بنادیا گیا جبکہ افغان قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے طالبان کیساتھ مذاکرات میں خواتین کی شرکت پر زور دیا ہے ۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے پروان کے ضلع بگرام میں واقع امریکی فضائیہ کے سب سے بڑے اڈے کو راکٹس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔فضائی اڈے پر 10 راکٹس داغے گئے جن میں سے 4 فضائی اڈے کے اندر گرے اور 6 کو پولیس نے فضا میں ہی ناکارہ بنادیا۔ راکٹس حملے سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔بگرام کے گورنر کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ قلندر خیل کے علاقے میں ایک ٹرک پر 10 ایم بی-12 راکٹس رکھے گئے اور انہیں امریکی فضائی اڈے کی جانب داغا گیا۔امریکی فضائیہ کی جانب سے تاحال راکٹس حملوں پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حملے میں شدید جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔تاحال کسی شدت پسند گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ گزشتہ روز صوبہ غزنی میں قرآن خوانی کے اجتماع میں موٹرسائیکل بم دھماکے میں 30 سے زاید افراد شہید اور 20 سے زاید زخمی ہوگئے تھے۔دوسری جانب افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل میں خواتین کی موجودگی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امن مذاکرات میں خواتین اہم کردار ادا کریں گی۔ایران ٹی وی کے مطابق افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ بنیادی موضوعات پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ طے شدہ تاریخ پر ہی شروع ہو گا۔طالبان گروہ کے ساتھ افغان حکومت کے امن مذاکرات کا ایک اہم موضوع جنگ بندی ہوگا۔ افغانستان کے عوام ایک عرصے سے جنگ و خونریزی کا شکار ہیں اور بدامنی و تشویش نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
