

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اثاثے بنائے انہیں نیب کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اپوزیشن نے نیب قانون میں ترمیم کی شکل میں این آر او مانگا، سینیٹ کے شفاف انتخابات پر اپوزیشن کا دہرا معیار سامنے آیا، ہم شفاف الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔پیر کووزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں پارٹی رہنمائوں اور ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پارٹی رہنمائوں، ترجمانوں کو اپوزیشن کی نیب قانون میں مجوزہ ترامیم عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی۔ عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام ہوگا، اپوزیشن کی تحریک صرف این آر او کے لیے ہے، اپوزیشن نے 34 نکات لکھ کر ہم سے این آر او مانگا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کرپشن پر نااہلی کی سزا ختم ہو، اپوزیشن کہتی ہے ایک ارب سے کم کرپشن پر نیب کارروائی نہ کرے۔ اجلاس کے شرکا نے کہاکہ نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے جس پر وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کو ہر فورم پر بے نقاب کریں۔عمران خان کا کہنا تھاکہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا واضح موقف ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم جہاد کررہے ہیں، مافیا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ کررہی ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کے مابین اپوزیشن کے اجتماعی استعفوں اور احتجاج سے متعلق ممکنہ حکمت عملی پر مشاورت ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں غور کیا گیا کہ اپوزیشن کے اجتماعی استعفوں کی صورت میں ایوان کی کارروائی کیسے چلائی جائے گی ۔اسپیکر نے وزیراعظم کو حکمت عملی کے بارے میںآگاہ کیا۔مزید برآں بلین ٹری ہنی انیشیوایٹو پروگرام کی اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان کا 5 واں نمبر ہے،ماضی میں جو بھی حکمران آیا اس نے اپنے 5 سال کا ہی سوچا، ماضی کی حکومتوں نے سیاسی مقاصد کے لییجنگلات کی زمین لیز پر دی ، درختوں کی کٹائی اور آبادی میں بے ہنگم اضافہ ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔
