واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کو اسرائیل میں چین کی سرمایہ کاری کھٹکنے لگی۔ امریکی وزیر خارجہ کے معاون برائے امور مشرق وسطیٰ ڈیوڈ شینکر نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اسرائیلی ٹیکنالوجی کی صنعت میں چین کی سرمایہ کاری پر سخت تشویش ہے۔ بیجنگ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اسرائیلی اور امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ شینکر نے یہ بات سگنل ریسرچ سینٹر میں ایک کانفرنس کے دوران کہی۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ دبے الفاظ میں اسرائیل میں چین کے اثر رسوخ پر خدشات ظاہر کرتی رہی ہے،تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی انتظامیہ علانیہ طور پر اس موقف کا اظہار کر رہی ہے۔ شینکر نے کہا کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ چینی سرمایہ کاری کی نگرانی کو سخت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا نگرانی کا نظام اس وقت نہایت کمزور ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل علانیہ طور پر چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور چین کی ایران سے تیل کی خریداری پر بات کرے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نے چین کے ساتھ تعلقات اور سرمایہ کاری کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ ادھر اسرائیل نے امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے میدان میں اسرائیلی کمپنیوں میں چینی سرمایہ کاری کو راستہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ واضح رہے کہ ایک اسرائیلی ریٹائرڈ جنرل اساف اوریون نے گزشتہ ہفتے ایک سیاسی مقالے میں لکھا تھا کہ امریکا چین کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ شمار کرتا ہے۔ ان حالات میں اسرائیل کے لیے ممکن نہیں ہو گا کہ وہ چین کے ساتھ معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکے۔ امریکا نے چین کے حوالے سے جو سبق دیا ہے وہ اسرائیل کے لیے انتباہ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ سیاسی ماہر مارک ڈوبوویٹز اور جوناتھن شینزر نے بھی گزشتہ ہفتے چین کے حوالے سے امریکی اور اسرائیلی پالیسی میں اختلاف پر مقالہ لکھا تھا،جس میں دونوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حساس شعبوں میں چین کی سرماریہ کاری کی جانچ کرے۔
