English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی کی علی گڑھ یونیورسٹی سے خطاب میں لفاظی

القمر

لکھنؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنانے اور ملک کی زمین مسلمانوں پر تنگ کرنے والی ہندو انتہا پسند تنظیموں کی سرپرست سیاسی جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے تاریخی تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دورے کے دوران لفاظی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مسلم ہمدردی حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اِسے ’’منی بھارت‘‘ قرار دیا ہے۔ اے ایم یو کی صد سالہ تقریبات سے منگل کے روز آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے بھارت کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مودی نے تقریب میں خود کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کرنے کے پر کئی حلقوں کی جانب سے اعتراض کے علاوہ یونیورسٹی سے متعلق اپنے رویے اور وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے گجرات فسادات کے دوران اپنے منفی کردار کے داغ مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جب بات قومی اہداف کے حصول کی ہو تو اختلافات ایک طرف رکھ دینے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو سے بہت سے مجاہدینِ آزادی نکلے، ان سب کے نظریات الگ تھے، تاہم جب غلامی سے آزادی کی بات آئی تو تمام کے نظریات ایک دوسرے سے جُڑ گئے۔ دریں اثنا ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر لفاظی پر مبنی اور انتہائی مایوس کن تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک انتخابی تقریر ہے۔ سابق رکن پارلیمان اور اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدر محمد ادیب نے کہا کہ مودی اگر یونیورسٹی کی تاریخ سے اتنے ہی متاثر ہیں تو انہیں کم از کم اپنی پارٹی کو یہ ہدایت کرنی چاہیے تھی کہ یونیورسٹی کے خلاف بیان بازی نہ کی جائے۔ یاد رہے کہ بی جے پی سے وابستہ سیاست دان ماضی میں یونیورسٹی کا نام تک بدلنے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے قول و فعل میں کھلا تضاد موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے