ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے عدالتوں پرمقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے ایک روزہ عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی۔ اماراتی خبررساں ادارے ’’وام‘‘ کے مطابق وزیر انصاف سلطان بن سعید البادی ظہری نے کہاکہ اقدام کا مقصد معمولی جرائم سے متعلق مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا ہے۔ اس سلسلے میں یومیہ 50مقدمات کے فیصلے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ابوظبی حکومت نے معمولی جرائم کے فیصلوں اور سزاؤں میں تاخیر سے بچنے کے لیے بڑا اقدام کیا ہے۔ ایک روزہ انتظامی عدالتیں بعض ایسے معاملات پر غور کرسکتی ہیں، جن میں مزدوروں کی ہڑتالیں، چھپ کر فون کالیں سننا، وائرلیس اور وائرڈ کمیونی کیشن کے ذریعے دوسروں کو جان بوجھ کر پریشان کرنا، املاک نذر آتش کرنا، قبرستان کی بے حرمتی، نوزائیدہ بچوں کی ولدیت بدلنا، گداگری، خودکشی کی کوشش، جرائم سے وابستہ آلات کو چھپانا اور دیگر معمولی جرائم سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔ یہ عدالتیںغیر ملکی شہریوں کے داخلے اور رہایش سے متعلق وفاقی قانون سے متعلق تمام معاملات بھی دیکھ سکیں گی۔ اس کے علاوہ ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر قید یا جرمانے کی سزا موقع پر دی جاسکے، جب کہ ٹریفک کے دیگر جرائم جیسے نمبر پلیٹ نمبر تبدیل کرنا یا لائسنس کے حصول کے لیے غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں بروقت فیصلے سنائے جائیں گے۔
