

تہران ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بغداد حملے سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک اپنے ہی شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈال کر خود اپنی ناکامی سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتے۔ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں امریکا میں کورونا سے ہونے والی ریکارڈ اموات کا ڈیٹا بھی شیئر کیا۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی دارالحکومت بغداد میں قائم سفارت خانے پر راکٹ حملوں کے معاملے پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی امریکی اہلکار کی ہلاکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر ایک بھی امریکی اہلکار مارا گیا تو وہ ایران کو اس کا ذمے دار ٹھہرائیں گے ، لہٰذا تہران حکومت اس پر غور کرے۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ امریکی سفارت خانے پر حالیہ حملے میں استعمال ہونے والے راکٹ ایرانی ساختہ تھے۔ واضح رہے عراقی دارالحکومت بغداد میں انتہائی سیکورٹی والے گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے پر 8 راکٹ داغے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہاں موجود گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ دریں اثنا عرب ٹی وی کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے سینئر ذمے داران نے کئی آپشنز پر اتفاق رائے کیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد عراق میں امریکی عسکری اور سفارتی اہل کاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جانے والے کسی بھی حملے کو روکنا ہے۔
