حیدر آباد، میرپور خاص، جھڈو (اسٹاف رپورٹر، نمائندہ جسارت) سندھ کے آبادگاروں نے ایران سے ٹماٹر اور پیاز منگوانے کیخلاف حیدر آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ وبھوک ہڑتال کی۔ اس موقع پر سید ذین شاہ، فیاض شاہ راشدی، خلیل بھرگڑی و دیگر نے کہا کہ سندھ میں ٹماٹر اور پیاز مارکیٹ میں موجود ہونے کے باوجود ایران سے پیاز اور ٹماٹر منگوانا سندھ کے آبادگاروں کی حق تلفی کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ٹماٹر، پیاز، گنے اور گندم کی فصلوں کے مناسب نرخ مقرر کیے جائیں، باہر سے چیزیں منگوانے سے عوام کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پرائز کنٹرول نہیں کرپا رہی ہے، جس کے باعث اشیاء خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ اس وقت عوام، ہاری، مزدور اور آبادگار سخت پریشان ہیں کیونکہ حکومت سندھ کی زرعی پالیسیی ناقص ہے اور ان ناقص پالیسیوں کے باعث منافع خور فائدہ اور عوام، ہاری وآباد گار نقصان اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام سیم نالوں کے بجائے قدرتی نہری نظام کو بہتر بنایا جائے، ڈرینج سسٹم فول پروف بنایا جائے اور سندھ کے آباد گاروں اور ہاریوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ میرپورخاص میں ٹماٹر کی مقامی فصل مارکیٹ میں آنے کے باوجود حکومت کی جانب سے ٹماٹر کی درآمد جاری ہے، ٹماٹر کی درآمد کی وجہ سے کاشتکاروں کا معاشی نقصان ہورہا ہے۔ میرپور خاص، بدین، عمرکوٹ، سانگھڑ، ٹنڈوالہٰیار کے علاوہ کے دیگر اضلاع میں ٹماٹر کی نئی فصل تقریباً دو ہفتے قبل مارکیٹ میں آچکی ہے جو کہ مقامی طور پر ضرورت پوری کررہی ہے، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے دیگر ممالک سے ٹماٹر درآمد کیا جارہا ہے، جس کے باعث مقامی کاشتکاروں کا معاشی نقصان ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی غلط منصوبہ بندی کے تحت ٹماٹر کی درآمد کر کے کاشتکاروں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، جس کی وجہ سے کاشتکار دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔ کاشتکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹماٹر کی کاشت پر جو خرچ آتا ہے وہ بھی پورا نہیں ہوپا رہا۔ ٹماٹر کا بیج اور زرعی ادویات بہت مہنگی ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے ٹریکٹر کا خرچ بھی بہت ہے جبکہ ہاریوں کی مزدوری ادا کرنے کے بعد اس فصل سے کوئی فائدہ نہیں ہوپا رہا۔ ٹماٹر کی درآمد بند کردی جائے تو ان کو فصل کی مناسب قیمت مل پائے گی اور قیمتوں میں بھی استحکام ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹماٹر کی درآمد فوری بند اور کاشتکاروں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے۔ جھڈو میں پیاز اور ٹماٹر ایران سمیت دیگر ملکوں سے درآمد کرنے اور ان کی قیمتوں میں کمی سے کاشتکاروں کو ہونے والے شدید مالی نقصان کیخلاف سندھ آبادگار تنظیم کی زراعت بچاؤ سندھ بچاؤ کمیٹی کے تحت سیکڑوں آبادگاروں کا ملکانی شریف میں سخت سردی میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا، آبادگاروں کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کے باعث جھڈو پنگریو روڈ پر ٹریفک عارضی طور پر معطل ہوگیا۔ اس موقع پر سندھ آبادگار تنظیم کے رہنمائوں طارق محمود آرائیں، محمد علی لسکانی، حاجی فضل الرحمن میمن، اصغر پتافی، ملک ریاض و دیگر رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایران اور افغانستان سمیت مختلف ممالک سے پیاز اور ٹماٹر درآمد کرنے کا فیصلہ کسان دشمنی پر مبنی ہے، جس سے ملک کی زراعت تباہ اور کاشتکار مالی مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ آبادگار رہنماؤں نے کہا کہ کاشتکار مہنگے داموں بیج، کھاد اور دیگر زرعی مداخل خرید کر پیاز ٹماٹر اور دیگر سبزیاں کاشت کرتے ہیں، جب ان کی فصل تیار ہوجاتی ہے تو حکومت دیگر ملکوں سے یہ سبزیاں درآمد کرلیتی ہے، جس سے ان کی قیمتیں بہت زیادہ کم ہوجاتی ہیں اور کسانوں کو کاشت کی گئی سبزیوں کا مارکیٹ میں جائز معاوضہ بھی نہیں ملتا اور کاشتکاروں کو مالی نقصان کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ کاشتکار رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایران سے ٹماٹر اور افغانستان سے پیاز کی درآمدات کو فوری طور پر بند کرے اور پیاز کی بیرون ملک برآمدات کو فوری طور پر بحال کرکے آبادگاروں کو معاشی بدحالی سے بچایا جائے۔
