واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ری پبلکن پارٹی نے نومنتخب صدر جوبائیڈن کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا۔ ری پبلکن سینیٹر جوش ہالی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آیندہ ہفتے کانگریس میں الیکٹورل کالج سے بائیڈن کی کامیابی کی تصدیق پر سوال اُٹھائیں گے۔ تجزیہ کار کاروں کا کہنا ہے کہ ری پبلکن سینیٹرکا یہ اعلان جو بائیڈن کی کامیابی کے خلاف آخری ناکام کوشش ہے، تاہم اس اقدام سے واشنگٹن کے سیاسی ماحول میں گرما گرمی ہو سکتی ہے۔ ہالی سے قبل امریکی ایوانِ نمایندگان کے رکن مو بروکس بھی کانگریس میں الیکٹورل کالج ووٹنگ کی تصدیق کے عمل میں سوال اٹھانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ریاست میسوری سے پہلی باررُکن سینیٹ منتخب ہونے والے 40سالہ جوش ہالی نے اپنے بیان میں کہا کہ پینسلوانیا سمیت کئی ریاستوں نے اپنے ہی وضع کردہ انتخابی قوانین پر عمل نہیں کیا،جس کے باعث وہ الیکٹورل کالج کے نتائج کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ ہالی نے پُر جوش انداز میں مطالبہ کیا کہ کانگریس کو دھاندلی کے الزامات کا جائزہ لے کر انتخابات کی ساکھ کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہالی اور بروکس کے احتجاج کے بعد امکان ہے کہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر 2گھنٹے تک بحث ہو گی۔ ادھر بائیڈن کی نامزد وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ کسی انہونی کے بغیر بائیڈن 20 جنوری کو صدارت کا حلف اُٹھالیں گے۔ واضح رہے کہ انتخابی نتائج کی رو سیجو بائیڈن نے 306جب کہ اُن کے مقابل اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے 232ووٹ حاصل کیے۔ رواں ماہ امریکی کانگریس کے نومنتخب ارکان اپنی رُکنیت کا حلف اُٹھا ئیں گے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیمو کریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ ڈیمو کریٹک ارکان الیکٹورل کالج کی گنتی بدلنے کی کسی بھی کوشش کو رد کریں گے۔
