English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت،زیادہ ٹیکس کیلئے شراب نوشی کی عمر میں کمی

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی حکومت نے سرکاری آمدنی میں اضافے کے لیے شراب نوشی کی عمر گھٹا نے کی سفارش کردی۔ نئی دہلی حکومت کی ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے دارالحکومت میں شراب نوشی کی عمر 25 برس سے کم کر کے 21 برس کر دینے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس سے سرکاری خزانے کی آمدنی بڑھے گی اور شراب کی اسمگلنگ اور ٹیکس چوری جیسی بد عنوانیوں پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ نئی دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کمشنر کی صدارت میں گزشتہ برس ستمبر میں اس سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کی تھی، جس نے حکومت کی آمدن بڑھانے کے لیے متبادل ذرائع پر غور کرتے ہوئے تجاویز پیش کی تھیں۔ شرابیوں کی عمر میں کمی کے علاوہ شراب کی فروخت قرار دیے گئے دنوں میں بھی کمی کرکے انہیں 19کے بجائے 3دن تک محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت میں شراب کی فروخت پر عائد ٹیکس حکومت کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔دنیا بھر میں مضر صحت چیزوں پر ٹیکس اس لیے عائد کیے جاتے ہیں، تاکہ لوگ گراں سمجھ کر استعمال چھوڑ دیں، تاہم مودی سرکار اپنے خزانے بھرنے کے لیے نوجوانوں کو زہر پینے کا لائسنس دے رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020ء میں ملک بھر میں 2کھرب روپے سے زیادہ کی شراب فروخت ہوئی تھی، جب کہ انتظامیہ کو اس سے 54ارب روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ ادھر دہلی وائن کلب کے صدر سبھاش اروڑا نے مزید مفاد پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ شراب نوشی کو 25برس تک محدود کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ میرے خیال میں یہ عمر 18برس کر دینی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں نوجوان 15برس کی عمر ہی میں شراب پینا شروع کر دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین سے زیادتی اور بہیمانہ سلوک کے خلاف خبریں سامنے آنے پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں شور مچاتی رہتی ہیں، تاہم اس موقع پر ام الخبائث میں مبتلا شرابی قوم کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ نشے میں دھت جوان بھارت میں تباہی مچاتے رہتے ہیں اور دنیا میں کوئی اس کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے