English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر ٹرمپ کو معزول کرنے کی تجویز پیش کردی گئی

القمر

(تجزیہ : مسعود ابدالی )مریکی دارالحکومت 1814 میں بڑی تباہی کا ہدف بناتھا جب میجر جنرل رابرٹ راس (Robert Ross) کی قیادت میں برطانوی فوج نے شہرکی اینٹ سے اینٹ بجادی، امریکی صدر جیمز میڈیسن اپنے رفقا کے ہمراہ وہاں سے پہلے ہی فرار ہوچکے تھے۔ فرنگی افواج نے امریکی ایوان صدر اور دوسری سرکاری عمارات کیساتھ امریکی کانگریس (پارلیمان) المعروف Capitolکو بھی نذرآتش کر دیا جو صرف چند سال پہلے ہی مکمل ہوا تھا۔ اس واقعے کے تقریباً 206 سال بعد بدھ 6 جنوری کو ایک بار پھر Capitolیرغمال بن گیا۔ اس بار غیر ملکی فوج نہیں بلکہ خود امریکی صدر کے اکسانے پرہزاروں قدامت پسند و قوم پرست مظاہرین کانگریس کی عمارت میں گھس گئے۔ اسوقت 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج کی توثیق و تصدیق کیلیے دونوں ایوانوں یعنی ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) اور سینیٹ کامشترکہ اجلاس ہورہا تھا۔ امریکی نائب صدر بھی وہاں موجود تھے ۔3 نومبر کو انتخابی نتائج کوصدر ٹرمپ نے تسلیم نہیں کیا انکا خیال ہے کہ کچھ ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ڈالے جانیوالے ووٹوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔صدر ٹرمپ کے الزامات کچھ اسی نوعیت کے ہیں جسکا عملی مشاہدہ اہل کراچی ‘ٹھپے بازی کی شکل میں کئی سال کرتے رہے ہیں۔ان انتخابی بے قاعدگیوں کے خلاف ٹرمپ نے امریکی عدالتوں میں 50 سے زیادہ درخواستیں دائر کیں لیکن بلا استثنا انکی تمام انتخابی عذرداریاں پہلی ہی سماعت میں خارج کردی گئیں۔ انکی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دینے والوں میں سپریم کورٹ کے تین جج بھی شامل ہیں جنکا تقرر خود ٹرمپ نے کیا تھا۔ عام انتخابات میں صدر ٹرمپ کو 70 لاکھ ووٹوں سے شکست ہوئی اور انکے 232 ووٹوں کے مقابلے میں جو بائیڈن نے 316 انتخابی ووٹ حاصل کیے۔ کامیابی کیلئے 270 انتخابی ووٹ ضروری ہیں۔امریکا میں انتخابی کالج کے مصدقہ نتایج 6جنوری کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں پیش کئے جاتے ہیں اور نائب صدر کی سربراہی میں ہونے والااجلاس میں ایک ایک ریاست کے نتائج کی توثیق کے بعد کامیاب امیدوار کا سرکاری اعلان کیا جاتا ہے۔صدرٹرمپ چاہتے تھے کہ کانگریس پنسلوانیہ، وسکونس، مشی گن اور جارجیا کے نتائج مسترد کردے۔ وہ نائب صدر مائک پنس سے اصرار کرتے رہے کہ وہ ان ریاستوںکے انتخابی نتائج کو مسترد کردیں۔انتخابی ووٹوں کی گنتی کا مروجہ طریقہ یہ ہے کہ ہر ریاست کے مصدقہ نتائج صدر نشین یعنی نائب صدر کو پیش کئے جاتے ہیں جو ایوان سے پوچھتے ہیں کہ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ اگر کوئی آواز نہ بلند ہو تو نتیجے کی توثیق کردی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق تو یہ ایک رسمی کاروائی ہے لیکن قانون کے تحت اگر کم ازکم ایک سینیٹر اور ایوان نمائندگان کا ایک رکن تحریری اعتراض جمع کرادے تو پھر مشتر کہ کارروائی معطل کرکے دونوں ایوان اس اعتراض پر بحث کرکے رائے شماری کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ریپبلکن پارٹی کے 13 سینیٹروں اور ایوان نمائندگان کے 140 سے زیادہ ارکان نے مختلف ریاستوں کے انتخابی نتائج کو کالعدم کرنے کی قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ کو جمع کرادی۔انتخابی ووٹوں کی تصدیق کے دوران ارکان کانگریس پر دباو ڈالنے کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو واشنگٹن طلب کیا۔کانگریس کے باہر عظیم الشان جلسے سے اپنے آتشیں خطاب میں انھوں نے انتخابات میں دھاندلی کو ملک پر سوشلسٹوں کے قبضے کا نقطہ آغاز قراردیا۔ انکا کہنا تھا کہ اگر مینڈیٹ کی چوری کو اس بار ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا گیا تو ریپبلکن پارٹی کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ ساتھ ہی انھوں نے اعلان کیا کہ جلسے کے بعد ہم کانگریس کی طر ف مارچ کرینگے تاکہ ارکان کا عوامی جذبات سے آگاہ کیا جائے۔ مزید جوش دلانے کیلئے انھوں نے کہا کہ میں بھی آپکے شانہ بشانہ رہونگا۔تاہم جلسے کے بعد امریکی صدر وہائٹ ہاوس واپس چلے گئے۔ جلسہ ختم ہوتے ہی 30 ہزار سے زیادہ کا مجمع USA,، USA کے نعرے مارتا کانگریس کی عمارت پر چڑھ دوڑا۔ دروازے پر معمور پولیس دھکم پیل میں پیچھے ہٹ گئی اور مشتعل ہجوم کئی دروازوں سے اندر داخل ہوگیا۔ اسوقت ایوان کا ماحول کشیدہ تھا اور ایریزونا کے انتخاب کو کالعدم کرنے کیلیے دھواں دھار بحث ہورہی تھی۔ سیکورٹی اہلکاروں کیلیے ارکان کانگریس کی حفاظت پہلی ترجیح تھی چنانچہ دروازے پر تعینات نفری بھی اندر بلالی گئی جنھوں نے قانون سازوں کو حفاظتی حصار میں لے کر تہہ خانے پہنچادیا۔ داخلی راستہ صاف ہونے پر مزید مظاہرین اندر گھس آئے اور دفاتر میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔ اس دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2خواتین سمیت 4افراد ہلاک ہوگئے۔ صورتحال قابو سے باہر ہوے دیکھ کر نیم فوجی دستے طلب کرلیے گئے۔ دوسری طرف دارالحکومت کی رئیسہِ شہر نے 24 گھنٹے کا کرفیو لگادیا۔مظاہرین کے منتشر ہونے کے بعد جب صورتحال قابو میں آئی تو تصدیق کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور صبح چار بجے تمام ریاستوں کے انتخابی ووٹوں کی جانچ پڑتال کے بعد انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیاجسکے فوراً صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دھاندلی اور بے ایمانی کے شکوہ شکایت کے بعد پرامن انتقال اقتدار کی یاد دہانی کرادی۔ ڈیموکریٹک پارٹی صدر کی اس یقین دہانی پر مطمئن نہیں۔ سینیٹ کے نئے قائد ایوان چک شومر نے صدر ٹرمپ کے رویے کو دماغی خلل قرار دیتے ہوئے انکی معزولی کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے نائب صدر سے کہا ہے کہ وہ 25 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں اختیارات سنبھال کر صدر ٹرمپ کو گھر بھیج دیں۔ سینیٹر شومر انے دھمکی دی ہے کہ اگر وفاقی کابینہ اورنائب صدر نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کٰیں تو وہ معزولی کی قرارداد سینیٹ میں پیش کرینگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے