بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز عراقی عدالت نے ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے الزام میں ٹرمپ کے وارنٹ جاری کیے۔ یہ وارنٹ اقدام قتل کے الزام کے تحت جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ عدالت نے واشنگٹن کے اشارے پر کیے گئے ڈرون حملے کی جانچ کا حکم بھی دیا ہے۔ الزام ثابت ہونے پر ٹرمپ کو موت کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔ اعلیٰ عدالتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق عدالت نے ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ مہندس کے اہل خانہ کے دعوے پر کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا گیا۔ تاہم واقعہ سے متعلق مزید تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی گزشتہ جنوری میں بغداد ائرپورٹ پرامریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔اس سے قبل ایران نے بھی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکی صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور امریکی صدر کی گرفتاری میں مدد کے لیے ایران نے انٹرپول سے بھی مدد مانگی تھی۔3 جنوری 2020ء کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی عراق میں امریکی حملے کا نشانہ بنے تھے۔ بغداد پہنچنے پر جنرل سلیمانی کا عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس نے استقبال کیا تھا اور دونوں ایک گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہوئے تھے کہ ائرپورٹ کے قریب قافلے پر 4 میزائل مارے گئے، جس میں دونوں کمانڈوروں سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔چند روز قبل ایران نے بھی جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی بغداد ائرپورٹ پر امریکی حملے میں ہلاکت پر صدر ٹرمپ اور 47 اعلیٰ امریکی حکام کی گرفتاری کے لیے ایک بار پھر انٹرپول میں درخواست جمع کرائی تھی۔ واضح رہے کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جہاں امریکا اور ایران میں پہلے سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں خطے میں بھی کافی تناؤ پایا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ایران مسلسل خلیج میں جنگی مشقیں بھی کررہا ہے۔
