English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل نے مسجد ابراہیمی 10 روز کیلیے بند کردی

الخلیل: قابض صہیونی فوج یہودی آبادکاری کے خلاف ریلی میں شریک بزرگ فلسطینی کو زمین پر گرا کر تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض اسرائیلی انتظامیہ نے فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع مقدس مقام مسجد ابراہیمی میں 10 روز کے لیے نمازیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔ فلسطینی حلقوں نے اس اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کی ہے ۔مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر اور سدنہ کے چیئرمین شیخ حفظی ابو سنینہ نے وفا نیوز ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں اسرائیلی حکام کی طرف سے ایک نوٹس ملا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی شام مقامی وقت کے مطابق 9 بجے سے آیندہ 10 روز تک مسجد ابراہیمی میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ اس دوران کسی کو مسجد ابراہیمی میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ابو سنینہ نے اسرائیلی حکومت کے اس نوٹس کو فلسطینی مسلمانوں کے مذہبی امور میں کھلی مداخلت اور مذہبی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو ان کے مقدس مقامات سے محروم کرنے کے لیے کورونا کی وبا کا بھونڈا جواز پیش کررہا ہے ۔فلسطینی عالم دین کا کہنا تھا کہ ہم مسجد ابراہیمی میں نماز اور عبادت کے دوران صحت کے حوالے سے تمام تدابیر پر عمل کرتے ہیں، مگر مسجد کی طرف آنے والے راستوں میں اسرائیلی فوج کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ ہم مسجد ابراہیمی میں نماز کے موقع پر 20 نمازیوں کی قید کو مسترد کرتے ہیں۔ ادھر فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور کے سیکرٹری حسام ابو الرب نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کی طرف سے مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کے داخلے پرپابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تمام صہیونی حربے مسلمانوں کی عبادت میں کھلی مداخلت ہے۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے بیت المقدس کے قدیم علاقے کے سوا شہر بھر اور مغربی کنارے سے مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے آنے والوں پر پابندی لگا دی۔ اس مقصد کے لیے قابض صہیونی فوج نے شہر قدیم کے تمام دروازوں اور راستوں پر چیک پوسٹیں قائم اور رکاوٹیں کھڑی کرکے مسلمانوں کو نقل وحرکت کو محدود کردیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے