English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت : کسانوں سے مذاکرات کا آٹھواں دور بھی ناکام

نئی دہلی: مودی سرکار اور کسان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور چل رہا ہے

 

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کسان تنظیموں اور مودی سرکار کے دمیان مذاکرات کا آٹھواں دور فریقین کے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے باعث بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق فریقین نے جمعہ کے روز نئی دہلی میں بات چیت کی، جو بے نتیجہ رہی، تاہم فریقین 15 جنوری کو پھر بات چیت پر راضی ہو گئے۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے کسان رہنماؤں سے کہا کہ وہ تینوں زرعی اصلاحاتی قوانین کو واپس لینے کے بجائے کوئی اور حل حکومت کے سامنے پیش کریں، جس پر غوروخوض کیا جائے گا۔ جب کہ ملاقات سے قبل کسان رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے اور حکومت تینوں زرعی اصلاحاتی قوانین کو واپس نہیں لیا تو وہ 26 جنوری کو ٹریکٹر ریلی نکالیں گے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور بار بار اجلاس کا انعقاد کرکے انہیں تھکانا چاہتی ہے، لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ کسان اس کے کھیل میں الجھ کر تھکنے والے نہیں۔ کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے مذاکرات کے آٹھویں دور کی ناکامی پر رد عمل دیتے ہو ئے کہا ہے کہ مودی سرکار بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ غیر انسانی، اناپرست اور بے رحم ثابت ہوئی ہے۔ اسی طرح کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اورلگاتار ملاقاتوں کی حکمت عملی اختیار کرکے کسانوں کو گمراہ کررہی ہے۔ راہول گاندھی کہا ہے کہ تاریخ در تاریخ طے کرنا حکومتی حکمت عملی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے