

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک زیر زمین میزائل اڈے کا انکشاف ہوا ہے، تاہم اس اہم تنصیب کا محل وقوع نامعلوم ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کئی ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ روابط استوار کیے جانے اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں پاسداران کے سربراہ نے خلیج فارس کے قریب میزائل تنصیب کا دورہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ یہ اڈا ان کئی دیگر اڈوں میں سے ایک ہے، جہاں ایرانی بحریہ کے کئی اسٹریٹیجک ہتھیار رکھے جاتے ہیں۔ یہاں پر موجود میزائل سیکڑوں کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ اپنے ہدف کو تباہ کرنے اور اپنی سمت کی درستگی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ تباہ کن طاقت کے حامل ہتھیار دشمن کے الیکٹرانک جنگی ساز و سامان پر قابو پا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ زیرزمین خفیہ اڈے کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا، جب امریکا کی جانب سے جوہری صلاحیت کے حامل 2 بی 52 بم بار طیاروں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ایران نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ وہ خلیج کی ساحلی پٹی پر زیر زمین میزائل شہر تعمیر کررہے ہیں۔
