شیخوپورہ (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور سول جج کے خلاف درخواستیں دینے والے شخص اختر علی کی پٹیشن کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے اور اسے 2 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتی افسروں کے خلاف ایسی جھوٹی درخواست بازی سے ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور قرار دیا ہے کہ اپیل کنندہ کے رویے کی بناء پر اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اختر علی کا مقدمہ اس کی مطلقہ بیوی تانیہ کوثر سے چل رہا ہے اختر علی ایک اور فوجداری مقدمے میں بھی ملزم ہے جس کی مدعیہ غزالہ بی بی ہے اختر علی نے مقدمے کو شیخوپورہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے تبدیل کرانے کیلیے دی جانے والی درخواست میں فاضل عدالتی افسر کے ساتھ ساتھ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے خلاف بھی بے جا الزام تراشی کی ہے اور معاملے کو اسکینڈلائزڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔ عمومی طور پر عدلیہ ایسے معاملات میں اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرتی مگر اپیل کنندہ کو ڈسٹرکٹ جج شیخوپورہ راؤ عبدالجبار خان کی طرف سے دی جانے والی سزا کو برقرار رکھا جاتا ہے جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ نے دائر کی جانے والی پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے جرمانے کی رقم 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی تھی۔
