

ریاض ؍ تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کو نیوم شہر میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ کا کہنا ہے کہ خادم حرمین شریفین کو ان کی خواہش کے مطابق ویکسین لگائی گئی ہے اور یہ اقدام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ریاست کی پالیسی ہمیشہ وبا کی روک تھام پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے عالم گیر وبا کے آغاز سے اب تک مملکت کی سرزمین پر شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی صحت اور ان کی جان کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ سعودی وزیر صحت نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ تبدیل شدہ کورونا وائرس سے متاثرہ 10 افراد کے کیس سامنے آ چکے ہیں، تاہم سائنسدان اور ڈاکٹر اس طرح کی تبدیلیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کی بنائی ہوئی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کو اپنے شہریوں پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چند کمپنیوں نے ایسی پیش کش کی تھی، جسے مسترد کردیا گیا ہے۔ صدر روحانی نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ صرف محفوظ سمجھی جانے والی ویکسین ہی خریدی جائے گی۔
