English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جماعت اسلامی طلبہ کے حقوق غضب نہیں کرنے دے گی ، حافظ نعیم

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سندھ اسمبلی کے باہر میڈیکل کالج کے طلبہ کے دھرنے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نےMDCATایکشن کمیٹی کے تحت سندھ کے میڈیکل کالجز و یونیورسٹیز میں داخلوں سے محروم رہ جانے والے طلبہ و طالبات کی جانب سے سندھ اسمبلی بلڈنگ کے سامنے دیئے گئے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی ، طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور خطاب کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی سمیت طلبہ و طالبات بڑی تعدادمیں موجود تھی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ ملک میں غریب و مڈل کلاس اور اشرافیہ کے لیے الگ الگ تعلیمی نظام چل رہا ہے ، انگریز کا قائم کردہ تعلیمی نظام تاحال موجود ہے ، طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے ، طلبہ کا تعلیمی استحصال کیا جا رہا ہے ، پی ایم ڈی سی کا نظام پی ایم سی سے بہتر تھا ، پی ایم سی نے پرائیویٹ کالجز کو فیسوں میں اضافہ کی کھلی چھوٹ دے دی ہے ، پی ایم سی کے تحت ہونے والے امتحانات فراڈ ہیں ، جماعت اسلامی طلبہ کے حقوق غصب نہیں کرنے دے گی اور ایسے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ مافیا کی من مانی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اگر اس مافیاکو لگام نہ ڈالی گئی تو سی ایس ایس ، انجینئرنگ سمیت دیگر تعلیمی بورڈز پر بھی یہی مافیا قابض ہوجائے گی ، غریب سے پڑھائی کا چھیننا انسانی حقوق کی پامالی ہے، اس مافیا نے تعلیم کو تجارت بنا دیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم پر آٹا اور چینی مافیاز کے بعد اب تعلیمی مافیا کو بھی مسلط کردیا ، سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی طلبہ کے مسائل سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے ، سندھ حکومت کے رویہ سے واضح ہوگیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت میں دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی خاموش اتحاد ہے ، آج سندھ کے طلبہ سندھ اسمبلی آئے لیکن کوئی صوبائی وزیر ان کے مسائل سننے کے لیے نہیں آیا ، صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے ، جماعت اسلامی میڈیکل کے متاثرہ طلبہ کو اکیلا نہیں چھوڑے گی، جماعت اسلامی طلبہ کے حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے گی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے طلبہ کے مطالبات کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چوں کہ 200سوالات کے امتحان میں سے 28سوال نصاب سے ہٹ کر شامل کیے گئے اس لیے دوبارہ صوبائی تعلیمی نصاب سے پرچہ لیا جائے اور PMCمروجہ طریقہ کارکے مطابق کار بن کاپی طلبہ کومہیا کی جائے ، امتحان کی ری چیکنگ کا نظام بھی بنایا جائے،امتحانی نتیجہ MDCATکی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے، ڈومیسائل کی صوبائی حد کی پابندی ہونی چاہیے، تاکہ طلبہ اپنے صوبے میں تعلیم حاصل کرسکیں، پرائیویٹ اداروں میں فیسوں کے بے لگام اضافے کو کنٹرول کیا جائے، دوبارہ پرچہ کی تیاری کے لیے کم از کم چالیس دن کا وقت دیا جائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ طلبہ کا مستقبل برباد ہونے سے بچائیں اور کیس کا فیصلہ جلد سنائیں ۔ نجیب ایوبی نے کہا کہ جب تمام صوبوں میں یکسا ںتعلیمی نظام موجود نہیں ہے ، تو طلبہ کیسے صوبائی نصاب سے ہٹ کر امتحان دے سکتے ہیں ، وفاق و سندھ کی حکومتوں میں موجود لوگ جان لیں جماعت اسلامی طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ایکشن کمیٹی راہ نما سید محمد معاذنے کہا کہ طلبہ و طالبات 2دن سے بھوکے بیٹھے ہیں اور اب سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دیا ہے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ طلبہ کی داد رسی کے لیے تیار نہیں ہیں ، سندھ حکومت 18ویں ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے صوبائی سطح پر پی ایم سی کی طرح ادارہ قائم کرے ۔ رمشا ارشد نے کہا کہ MDCATنے میڈیکل کے طلبہ سے امتحان لینے کے لیے اچھے انتظامات نہیں کیے ،امتحان 2002سے 2016میں ہونے والے انٹری ٹیسٹ کی طرح لیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے